راچی :پاکستان سپرلیگ(پی ایس ایل) کی پاکستان میں دھماکا خیز واپسی ہوئی جہاں نیشنل سٹیدیم کراچی میں دفاعی چمپیئن اسلام آباد یونائیٹڈ اورلاہور قلندرز کے درمیان اہم میچ میں یونائیٹڈ کے بلے بازوں نے کئی ریکارڈز بنالیے جبکہ  آصف علی نے 17 گیندوں پر تیز ترین نصف سنچری بنا کر کامران اکمل کا ریکارڈ برابر کردیا۔نیشنل سٹیڈیم کراچی میں لاہور قلندرز کے کپتان فخر زمان نے ٹاس جیت کر ایک چھوٹی باونڈری کے باوجود پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا جس کو ان کے باولرز سنبھالنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔ آصف علی میچ کے 15 ویں اوور کے آغاز سے ایک گیند قبل بیٹنگ کے لیے میدان میں اترے تو اسلام آباد یونائیٹڈ کا سکور 3 وکٹوں پر 150 رنز تھا جس کو انہوں نے اپنی جارحانہ اننگز مزید تقویت پہنچا دی۔ آصف علی نے پی ایس ایل کے رواں سیزن کی دوسری سنچری بنانے والے ڈیل پورٹ کے ساتھ مل کر چوتھی وکٹ میں 88 رنز کا اضافہ کیا۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرنے والے آصف علی نے انتہائی جارحانہ انداز میں 3 چوکے اور 6 چھکے قلندرز کو رسید کیے اور صرف 17 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کرکے کیرون پولارڈ کا ریکارڈ اپنے نام کرلیا۔لاہور قلندرز کے شاہین شاہ آفریدی نے پورے سیزن میں اب تک بہترین باولنگ کا مظاہرہ کیا تھا لیکن کراچی میں ٹورنامنٹ کی تاریخ کی بدترین باولنگ کی اور اپنے کوٹے میں 62 رنز دیے۔اسلام آباد یونائیٹڈ نے ڈیل پورٹ کے آوٹ ہوئے بغیر 117 اور آصف علی کے 21 گیندوں پر 55 رنز کی بدولت مقررہ 20 اوورز میں 3 وکٹوں پر 238 رنز بنالیے جو پی ایس ایل کی تاریخ کا سب سے بڑا اسکور ہے۔پشاور زلمی کے کامران اکمل 21 مارچ 2018 کو قذافی سٹیڈیم لاہور میں کراچی کنگز کے خلاف 17 گیندوں پر ٹورنامنٹ کی تاریخ کی تیز ترین نصف سنچری مکمل کی تھی۔کامران اکمل نے بارش سے متاثرہ اور 16 اوورز تک محدود میچ میں 5 چوکوں اور 5 چھکوں کی مدد سے اپنی نصف سنچری مکمل کی تھی۔اس سے قبل اسلام آباد یونائیٹڈ کے لیوک رونچی نے گزشتہ برس کراچی کنگز کے خلاف 19 گیندوں پر تیزترین نصف سنچری بنانے کا ریکارڈ قائم کیا تھا جس میں 7 چوکے اور 3 چھکے شامل تھے۔پی ایس ایل کے رواں سیزن میں پشاور زلمی کے کیرون پولارڈ نے جارحانہ نصف سنچری بنائی تھی۔