Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

پاکستان ایک عجیب و غریب ملک ہے!

لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان

ہم ایک عرصے سے سنتے چلے آئے ہیں کہ پاکستان ایک عجیب و غریب ملک ہے۔ قائداعظم کے فرمان کے مطابق کرم خوردہ Moth-Eatenاور جب 1947ء میں ہمیں ملا تو صرف اسی ایک شخص کی انانیت اور عزم کے طفیل۔ اس صفت کو اس شخص کے مخالفین ہٹ دھرمی کا نام بھی دیتے تھے۔

لیکن جب یہ مل گیا تو اس میں ہر طرح کی ناداری، مفلسی، بے سروسامانی اور نکبت کی انتہا تھی۔ پاکستانی پنجاب میں جو لٹے پٹے قافلے انڈین پنجاب سے آئے تھے ان میں اکثریت جیب و دامن کے افلاس کا شکار تھی۔

یہ گویا پاکستانی پنجاب کے اوپر ایک ناروا بوجھ تھی۔ لاہور اور سیالکوٹ کے مقابلے میں امرتسر اور فیروزپور کے مہاجر، زیادہ سادہ لوح اور مرنجاں مرنج تھے۔ انگریز کی صد سالہ غلامی نے ان کو پاکستانی پنجاب کے باسیوں سے زیادہ متاثر کیا تھا۔ لیکن آفرین ہے ان سادہ لوح اور سادہ دماغ مہاجرین پر انہوں نے بہت جلد اپنے اوپر سے مہاجرین کا لیبل اتار پھینکا اور صرف پاکستانی بن گئے۔

کچھ برس بعد وسطی اور مشرقی ہندوستان کی جانب سے جو لوگ پاکستان آئے وہ بزعمِ خود زیادہ پڑھے لکھے اور روشن دماغ تھے۔ انہوں نے لاہور، ملتان اور سیالکوٹ وغیرہ میں قیام کرنا مناسب خیال نہ کیا اور سیدھا پاکستان کے دارالحکومت (کراچی) کا رخ کیا۔

ان کو اپنی زبان دانی پر ناز تھا اور یہی انانیت ہے جو ان کو آج تک پریشان رکھ رہی ہے۔ زبان دانی اور چرب زبانی میں جو فرق ہے وہ پنجاب کے اردو ادیبوں اور شاعروں اور کراچی کے ادیبوں اور شاعروں کے مابین محسوس اور معلوم کیا جا سکتا ہے۔آج قیامِ پاکستان کے 70برس گزرنے کے بعد کراچی کے سوا پاکستان میں کہیں اور آپ کو ’مہاجر‘ نام کی آواز سنائی نہیں دے گی، جبکہ کراچی میں ایک عرصے تک پنجابی کو ’ڈھگّا‘ سمجھا جاتا رہا۔

کبھی کبھی مجھے خیال آتا ہے کہ حضرت اقبال کی جو پذیرائی اور شہرت کراچی سے باہر آپ کو دیکھنے سننے اور پڑھنے کو ملتی ہے، وہ کراچی کے اندر نہیں ملتی۔ وہاں اردو ادب کی جو محافل سجائی جاتی ہیں ان میں زیادہ بار ان ادباء اور شعراء کو ملتا ہے جو ہندوستان سے بلوائے جاتے ہیں۔ آپ مجھے لسانی فرقہ واریت کا طعنہ دے سکتے ہیں لیکن میری سوچ یہی ہے کہ آج بھی 1947ء کے بعد پنجاب میں وارد ہونے والے بھارتی پنجاب کے مسلمان پناہ گزینوں اور کراچی میں جا کر بس جانے والے مسلمان مہاجرین میں فرق ہے۔

پھر قائداعظم نے تو ہمیں وہ پاکستان دیا تھا جس کے دو حصے تھے۔ اگرچہ درمیان میں ایک ہزار میل کا فاصلہ تھا لیکن اگر پنجابی زبان کا سہارا لے کر بات کروں تو ’’کِلاّ‘‘ مضبوط ہو تو فاصلاتی دوری بے معنی ہو جاتی ہے۔ برٹش ایمپائر کو یاد کیجئے۔ اس کا ’’کِلاّ‘‘ لندن میں تھا اور چونکہ مضبوط تھا اس لئے مشرق و مغرب میں اس کی نوآبادیاں تھیں جو 200برس تک قائم اور موجود رہیں۔ اور دور کیوں جائیں آج بھی دیکھ لیں۔

واشنگٹن اور جزائر ہوائی میں ہزاروں میلوں کا فاصلہ ہے۔ ریاست ہوائی اگر مشرقی امریکہ ہے تو ریاست الاسکا کو مغربی امریکہ کہا جا سکتا ہے۔ اگر ہم نے 1971ء میں اپنے مشرقی پاکستان کو ہاتھ سے گنوا دیا تو اس کی وجوہات فاصلاتی، نسلی، لسانی یا سیاسی نہیں تھیں، صرف اور صرف ’’مرکز‘‘ یعنی ’’کِلّے‘‘ کی کمزوری تھی۔

یہ مشرقی پاکستان بھی اگر 1971ء کے بعد بنگلہ دیش بن گیا تو پاکستان کے باقی ماندہ حصے کا عزم و حوصلہ دیکھیں کہ اس نے آج تک اپنے سے چار پانچ گنا بڑے ہمسائے کو آگے لگایا ہوا ہے۔ مودی کے سر پر اس کا کوئی دوسرا ہمسایہ سوار نہیں۔۔۔ نہ بنگلہ دیش، نہ نیپال، نہ میانمر اور نہ چین بلکہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس کو اس نے 1971ء کی جنگ میں دو نیم کر دیا تھا۔۔۔ وہی اس کے ذہن پر مستولی ہے۔

میں نے کئی بار سوچا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ اس کی وجہ کیا ہے کہ پاکستان، حجم، آبادی، وسائل، فوج اور بین الاقوامی تعلقات کے تناظر میں قلیل اور کمتر ہونے کے باوصف بھارت کے راجہ اور پرجا کی نفسیات پر یکساں شدت سے سوار ہے۔ حالیہ عالمی تاریخ میں جرمنی کے علاوہ کوئی اور دوسری ریاست ایسی نظر نہیں آتی جو بظاہر کمتر وسائل کی حامل ہونے کے باوجود 20ویں صدی میں دو عالمی جنگوں کا باعث بنی۔

دیکھا جائے تو 20ویں صدی جرمنی کی صدی تھی۔دنیا کے سارے براعظم اس چھوٹے سے ایک جرمنی سے لرزتے اور خم کھاتے رہے ۔ موجودہ 21ویں صدی میں بھی کچھ عجب نہیں کہ وہ ملک تیسری بار کب جاگ کر ہٹلرازم کو زندہ کر دے!

پاکستان اگر ایک عجیب و غریب ملک ہے تو قوموں کی برادری اور اس کی تاریخ میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ میں دوبارہ جرمنی کا حوالہ دوں گا۔ 1918ء میں پہلی عالمی جنگ کے بعد جو حشر اتحادیوں نے جرمنی کا کر دیا تھا اس کی تفصیل کا مطالعہ کریں تو آپ کو 1971ء کی اپنی شکست (بھارت کے مقابلے میں) ہیچ نظر آئے گی۔ لیکن پھر دیکھتے ہی دیکھتے 1920ء سے لے کر 1930ء کی دہائی میں اسی شکست خوردہ جرمنی کے بطن سے ایک ایسا شخص اٹھا جس کا کسی کو خواب و خیال بھی نہ تھا کہ وہ وی آنا (آسٹریا) کے سٹیشن پر قلی کا کام کرتے کرتے جرمنی کا چانسلر بن جائے گا اور ساری دنیا کو لرزہ براندام کر دے گا۔

میں پاکستان کا موازنہ جرمنی سے نہیں کروں گا اور نہ کسی عمران خان کو ہٹلر کے مشابہ قرار دوں گا۔ دونوں کی طبائع اور کردار میں اگرچہ بُعدالمشرقین ہے لیکن اگر ایک مزدور / قلی سے اٹھ کر چانسلر بنا تھا تو دوسرا کرکٹر سے اٹھ کر وزیراعظم بنا ہوا ہے۔۔۔ اس حوالے سے بھی پاکستان ایک عجیب و غریب ملک ہے۔ جرمنی کی جو اقتصادی تہی دامنی ہٹلر کو ملی تھی وہی عمران خان کو ملی ہے۔

اس صورتِ حال کو ریورس کرنے کے لئے اسے انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ جس طرح 1919ء سے لے کر 1939ء تک کے 20برسوں میں ہٹلر نے جرمنی کو پاتال سے اٹھا کر بامِ ہمالہ تک پہنچا دیا تھا، اسی طرح 2019ء سے لے کر 2039ء تک کے آنے والے 20برسوں میں شائد پاکستان بھی پستی و انحطاط سے نکل کر اوجِ عروج تک چلا جائے۔ مجھے اشاریئے تو کچھ ایسے ہی نظر آ رہے ہیں۔

آپ اسے خوش فہمی یا رجائیت کی انتہا کا نام بھی دے سکتے ہیں لیکن کون جانے پاکستان بھی اسی راستے کا مسافر ہو۔ دیکھئے نا کہ دسمبر 1971ء میں جنرل نیازی، جنرل اروڑہ کے سامنے ڈھاکہ میں شکست کی دستاویز پر دستخط کر رہا تھا۔

اور آج نصف صدی بعد پاکستان، بھارتی ہوائی سینا کے ایک ونگ کمانڈر کو اپنی قید سے رہا کرکے واہگہ میں ہندوستانیوں کے حوالے کر رہا ہے اور اپنی دریا دلی اور فیاضی کا ثبوت دے رہا ہے۔۔۔ کیا دسمبر 1971ء میں ممکن تھا کہ پاکستان مئی 1998ء میں چھ جوہری دھماکے کر لے گا اور اپنے سے چار گنا بڑے غنیم کی غراہٹ کو خاک میں ملا دے گا؟۔۔۔ پاکستان واقعی ایک عجیب و غریب ملک ہے!

دو باتیں پاکستان کے حق میں جاتی ہیں اور ان کی گونج آج بین الاقوامی میڈیا پر سنائی دے رہی ہے۔ داخلی سیاسی ماحول کو دیکھیں تو وہ دھندلا بھی ہے اور گدلایا ہوا بھی ہے۔ میڈیا پر ہر روز اس کا ماتم کیا جاتا ہے۔ قنوطی صحافیوں اور اینکروں کی ایک فوج ظفر موج ہے جو پاکستانیوں کو بدبو دار اور گندے جوہڑ کے کناروں پر لے جا رہی ہے لیکن بیرونی میڈیا کا ایک حصہ وہ بھی ہے جو پاکستان کو مستقبل کا ایک عظیم اور ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ظاہر کر رہا ہے۔

اس فارن میڈیا کو بھی اب ہوش آ گیا ہے کہ سچ کو ہمیشہ زیرِ قالین نہیں دبایا جا سکتا۔ پاکستان کی لوکیشن، اس کی معدنی دولت (جو ہنوز نا دریافت ہے) اور اس کی 21کروڑ آبادی اس کا وہ سہ رکنی مینار ہے جو بڑی تیزی سے ابھر رہا ہے۔ شائد آنے والے کالموں میں فارن میڈیا کی اس کایا پلٹ کی کچھ تفصیل بھی آپ کے سامنے رکھوں لیکن میں صدقِ دل سے اس پر ایمان لا چکا ہوں کہ دیمک خوردہ Moth- Eaten پاکستان کا مستقبل روشن ہے۔ اقبال گو ستارہ شناس نہیں تھا لیکن اس نے ایک صدی پہلے کہہ دیا تھا:

دلیلِ صبحِ روشن ہے ستاروں کی تنک تابی

افق سے آفتاب ابھرا، گیا دورِ گراں خوابی

مجھے تو آنے والے چار پانچ برس انتہائی اہم معلوم ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی لوکیشن کی اہمیت (اور برکت) ہم پر عیاں ہونے والی ہے، اس کی معدنیات کی خوش خبری جلد ملنے والی ہے اور اس کی آبادی کا ذہنِ رسا دنیا کے سامنے واشگاف ہونے والا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ماؤ اور چو این لائی نے ایک افیون خوردہ قوم کو ذلت کی گہرائیوں سے اٹھا کر (صرف دو تین عشروں میں) اوجِ ثریا پر بٹھا دیا تھا اور آج اس کا شمار ایک سپرپاور کے طور پر ہونے لگا ہے تو کیا عجب کل پاکستان کو بھی کوئی ایسا ہی ماؤزے تنگ مل جائے!۔۔۔

پاکستان واقعی ایک عجیب و غریب ملک ہے!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک غیر تازہ غزل

صد خار زارِ خارِ مغیلاں تک آئے ہیں

کچھ لوگ، جب بھی فصلِ بہاراں تک آئے ہیں

خود درد جبکہ درد کا درماں ٹھہر چکا

ہم اہلِ درد، دردِ فراواں تک آئے ہیں

کوئی تو گل کھلا ہے جنون و خرد کے بیچ

فرزانے آج چاکِ گریباں تک آئے ہیں

اور ناخدا نے جب بھی لیا ہے خدا کا نام

ساحل بھی کھنچ کے لطمہ ء طوفاں تک آئے ہیں

دیکھیں فقیہِ شہر کرے احتساب کیا

اربابِ ذوق، حلقہ ء زنداں تک آئے ہیں

یہ بھی کہیں تراوشِ خونِ جگر نہ ہو

قطرے جو چند دامنِ مژگاں تک آئے ہیں

ذوقی بہ ادعائے خرد، ہم بفیضِ دل

اکثر فریبِ وعدۂ جاناں تک آئے ہیں

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More