Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

جڑواں شہر بھی بنیادی سہولتوں سے محروم

اسلام آباد( ثاقب ورک) جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کا علیحدہ علیحدہ ماسٹر پلان کی حد تک کامیاب ہو سکے گا ماہرین نے سوال اٹھا دئیے دارالحکومت کے دامن مین بلند و بالا عمارتوں کو موجودہ ماسٹر پلان پر دھبہ قرار دے دیا انہوں نے کہا کہ ماسٹر پلان تشکیل دیتے وقت سی پیک کو مد نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ 2040 میں وفاقی دارالحکومت کی آبادی پچاس لاکھ سے زائد ہو گی۔ دنیا کے دس خوبصورت دارالحکومتوں میں شامل ہونے کے باوجود پچھلے 58 سال سے اسلام آباد کا ماسٹر پلان تبدیل نہیں ہوا سابق حکمرانوں کی ناہلیوں کی وجہ سے بیس لاکھ سے زائد آبادی رکھنے والے دارالحکومت کے شہری زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں ۔ موجودہ ماسٹر پلان اپنی مدت 1980 ء کی دہائی میں پوری کر چکا ہے اس لیے اسے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسلام آباد کے شہری تعلیم ، صحت ، بجلی ، گیس اور دیگر بنیادی ضروریات سے محروم ہو گئے ہیں اسلام آباد کی تیس مین سے بیس کچی بستیوں مین بھی بنیادی سہولیات نہیں ، ان علاقوں میں تعلیم کا نظام بھی درہم برہم ہے جبکہ صحت کا نظام بھی نہ ہونے کے برابر ہے ۔ بیس لاکھ کی آبادی کے لیے صرف دو بڑے ہسپتال ہیں ناکافی ہیں۔ اسلام آباد میں 423 ماڈل اور ایف جی سکول ہیں ، ایک لاکھ پچیس ہزار بچے سرکاری سکولوں میں جبکہ پرائیویٹ دو لاکھ پچاس ہزار بچے زیر تعلیم ہیں ، سی ڈی اے کے موجودہ قوانین کے مطابق رہائشی علاقوں میں اسکول نہیں چلائے جا سکتے لیکن چارسو نجی سکول چل رہے ہیں منصوبہ ساز ضلعی عدالتوں کو ماسٹر پلان میں شامل کرنا ہی بھول گئے ہیں اور نتیجتا پانچ دہائیاں گزرنے کے باوجود مستقل کچہری نہ بن سکی ، تنگ گلیوں میں اسٹامپ فروش اور فائلیں اٹھائے وکلاء نظر آتے ہیں جبکہ انصاف کے منتظر سائلین پریشان رہتے ہیں کہ کہاں عدالت کا دروازہ ہے اور کہاں وکیل کا چیمبر ہے اسلام آباد کے قیام کے وقت تو اس عارضی کچہری سے کام چلا لیا گیا مگر اب یہ جگاڑ مزید چلانا ممکن نہین ، اسلام آباد مین اس وقت سو سے زائد غیر قانونی ہاؤسنگ سکیمیں بھی عوام کے لیے بڑا مسئلہ ہے ماہرین سے جب دارالحکومت کودرپیش مسائل کے حل کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھ اکہ اسلام آباد کے موجودہ ماستر پلان میں تبدیلی کرتے ہوئے شہر مین بے ہنگم آبادیوں اور اسلام آباد کے طول وعرض میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو بھی دائر ہ کار میں لانے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں جبکہ شہر بھر مین کچی آبادیوں کو بھی دائرہ کار میں لا کر ان کچی آبادیوں میں مقیم رہائشیوں کو زندگی کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کیلیے بھی اقدامات اٹھائے جائیں۔ ڈائریکٹر ماسٹر پلاننگ اقبال ظفر کا کہناتھا کہ اسلام آباد کے نئے ماسٹر پلان کے لیے فیڈرل کمیشن کا چوتھا اجلاس طلب کیا گیا ہے کنسلٹنٹ کی خدمات لینے کے لیے ٹی او آرز اور کن کن شعبوں میں سٹڈی کی ضرورت ہے اس مقصد کے لیے تین ذیلی کمیٹیاں اپنی سفارشات پیش کریں گی

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More