Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

حکومت کی معاشی پالیسیوں کیلئے ایک لفظ ۔ ناکامی 

اسلام آباد (انصار عباسی) ناکامی ایک ایسا لفظ ہے جو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے ابتدائی 8؍ ماہ کے دوران معاشی پالیسی کے نتائج ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اقتدار میں آنے کے بعد ہر وہ کام کیا ہے جس کیخلاف وہ پہلے مزاحمت کرتی تھی۔ پارٹی جو وعدے کیے انہیں وفا کرنے میں وہ ناکام ہو چکی ہے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ان سب کے باوجود، سرکاری معاشی پالیسیاں متوقع نتائج دینے سے بھی بہت دور ہیں۔ اس کی بجائے، تقریباً ہر معاشی اشاریہ خطرے کی گھنٹیاں بجاتا نظر آ رہا ہے۔ پی ٹی آئی نے وعدہ کیا تھا کہ ٹیکس سے ہونے والی آمدنی دگنا کرے گی اور کہا تھا کہ جب عوام حکومت میں 146146ایماندار145145 لوگوں کو بیٹھا دیکھیں گے تو ہر شخص ٹیکس دے گا۔ عمران خان کی حکومت نے اقتدار میں آتے ہی کفایت شعاری مہم بھی شروع کی تھی تاکہ عوام کو دکھایا جائے کہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ ضایع نہیں جائے گا۔ لیکن اس کے باوجود، ابتدائی 9؍ مہینے کے دوران جمع ہونے والے ٹیکس کے اعداد و شمار میں ریکارڈ 300؍ ارب روپے کی کمی واقع ہوئی ہے اور

خدشہ ہے کہ رواں مالی سال کے دوران یہ اعداد و شمار 450؍ سے 500؍ ارب روپے تک جا پہنچیں گے۔ عمران خان متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ پاکستان پر مجموعی قرضہ جات اور واجبات 30؍ ہزار ارب روپے تک کے ہیں اور مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی کرپشن کی وجہ سے ملک پر قرضوں کا اس قدر بھاری بوجھ ہے۔ اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے یہ اعلان بھی کیا تھا پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی حکومتوں کے گزشتہ 10؍ سال کے دوران لیے گئے 24؍ ہزار ارب روپے کے قرضوں کا فارنسک آڈٹ بھی کرایا جائے گا تاکہ یہ پتہ لگایا جا سکے کہ یہ رقم کس کی جیبوں میں گئی۔ لیکن رواں مالی سال کے ابتدائی 9؍ ماہ کے دوران، حکومت نے صرف اسٹیٹ بینک سے 3300؍ ارب روپے قرضہ لیا، یہ پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ اگر اس رقم میں پی ٹی آئی کی حکومت کی جانب سے پاکستان کے غیر ملکی دوست ممالک جیسا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین سے لیے گئے قرضے کی رقم بھی شامل کر دی جائے تو یہ 4000؍ ارب روپے بنتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں لیے گئے قرضے مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں لیے گئے قرضوں سے دگنا ہیں۔ پی ٹی آئی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اچھے طرز حکمرانی اور دیگر انتظامی اقدامات کی مدد سے گردشی قرضوں (سرکلر ڈیٹس) کا معاملہ حل کرے گی۔ لیکن گردشی قرضے تھمنے کی بجائے پی ٹی آئی کی حکومت میں تیزی سے بڑھنے لگے۔ نون لیگ نے جب حکومت چھوڑی تھی اس وقت گردشی قرضے 1.1؍ ٹریلین روپے تھے، لیکن اب یہ تقریباً 1.5؍ ٹریلین روپے تک جا پہنچے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ گردشی قرضوں میں روزانہ 2؍ ارب روپے کا اضافہ ہو رہا ہے۔ پی ٹی آئی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ایک کروڑ ملازمتیں پیدا کرے گی اور ساتھ ہی 50؍ لاکھ گھر تعمیر کرے گی جو صرف اس صورت ممکن ہے جب ملک کی شرح نمو میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زبردست اضافہ ہو جائے۔ لیکن اقتدار میں آنے کے بعد سے پی ٹی آئی حکومت کی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کی معاشی افزائش ڈرامائی انداز سے کم ہو گئی ہے حالانکہ ایشیائی ترقیاتی بینک کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق مالی سال 2019ء میں شرح نمو میں مزید کمی ہوگی اور یہ 3.9؍ فیصد تک جا گرے گی۔ مسلم لیگ نون کی حکومت کے آخری چند برسوں کے دوران شرح نمو 5.8؍ فیصد تھی۔ جب پاکستان تحریک انصاف اپوزیشن میں تھی تو بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر سخت شور شرابہ کرتی تھی۔ ماضی میں عمران خان کی نظر میں اس طرح کے اضافے عوام کیلئے 146146بم145145 تھے جبکہ اسد عمر نے وعدے کیے تھے کہ جب پی ٹی آئی حکومت میں آئے گی تو پٹرول کی قیمت 50؍ روپے فی لٹر کر دیں گے۔ انہوں نے قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان میں گیس کی قیمتیں دنیا بھر کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔ تاہم، اقتدار میں آتے ہی پی ٹی آئی نے گیس، پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں زبردست اضافہ کر دیا۔ یکم جنوری 2018ء کو مسلم لیگ نون کی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر ٹوئٹر پر عمران خان نے بیان جاری کیا کہ 146146بڑے ہی شرم کی بات ہے جس انداز میں پی ایم ایل ن کی حکومت نے 2018ء کے آغاز پر عوام پر پٹرول بم گرا دیا ہے۔ ٹیکس اصلاحات لانے اور منی لانڈرنگ کیخلاف کارروائی کرنے کی بجائے حکومت عوام پر بوجھ ڈالتی جا رہی ہے اور اس مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کرکے یہ کام کیا گیا ہے۔145145 صرف 14؍ ماہ بعد ہی یعنی 31؍ مارچ 2019ء کو عمران خان کی حکومت نے یکم اپریل سے نافذ العمل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری اضافے کا اعلان کیا۔ پاکستان تحریک انصاف ہمیشہ سے ہی یہ کہتی رہی ہے کہ اس کی معاشی پالیسیاں غریب دوست ہوں گی۔ عملاً دیکھیں تو اس کے اقتدار میں آنے کے بعد مہنگائی کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے اور یہ 9.4؍ فیصد تک جا پہنچی ہے جبکہ نون لیگ کی حکومت میں یہ صرف 4؍ فیصد تک تھی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر پاکستانی شہری بشمول غریب عوام کیلئے زندگی ایک سال قبل کے مقابلے میں تقریباً دگنی مہنگی ہو چکی ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 30؍ فیصد کمی کر دی اور اب ایک ڈالر 142؍ روپے کا ہو چکا ہے۔ پاکستانی روپے کی قدر میں یہ بے مثال کمی اس توقع کے ساتھ کی گئی تھی کہ اس سے ملک کی برآمدات میں تیزی آئے گی، برآمدات میں صرف 1.8؍ فیصد بہتری آئی ہے۔ پی ٹی آئی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ پاکستانیوں کے غیر ملکی بینکوں میں موجود 200؍ ارب ڈالرز واپس لائے گی۔ پی ٹی آئی نے مسلم لیگ نون کی جانب سے شروع کی جانے والی ٹیکس معافی (ایمنسٹی) اسکیم کی بھی مخالفت کی تھی اور اسے ٹیکس چوروں، لٹیروں اور خرد برد کرنے والوں کیلئے فائدہ مند قرار دیا تھا۔ تاہم، اقتدار میں آتے ہی حکومت کے پاس غیر ملکی بینکوں سے اربوں ڈالرز واپس لینے کیلئے جوش و جذبہ تو تھا لیکن اب اس معاملے میں صرف امیدیں ہی باقی رہ گئی ہیں۔ جو کچھ ماضی کی حکومتیں کرتی رہی ہیں، اب ویسے ہی پی ٹی آئی حکومت نے نئی ایمنسٹی اسکیم لانے کیلئے یو ٹرن لیا ہے، اس اسکیم کے ذریعے پاکستان میں رہنے والے اور پاکستان سے باہر رہنے والے پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ اپنی دولت ظاہر کریں۔ پی ٹی آئی کے سینئر لیڈر جہانگیر ترین، جنہیں سپریم کورٹ نے نا اہل قرار دیا تھا، نے بھی حالیہ ٹی وی شو میں عمران خان کی معاشی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے تھے۔ تاہم، وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے رابطہ کرنے پر دی نیوز کو بتایا کہ پی ٹی آئی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد ملکی معیشت کے ساتھ بنیادی بگاڑ درست کرنا ہے جس کی وجہ سے معاشی رفتار سست ہے۔ تاہم، انہوں نے اصرار کیا کہ آئندہ مالی سال کے دوران صورتحال واضح طور پر بہتر ہوتی نظر آئے گی۔ فواد چوہدری نے واضح کیا کہ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی نقائص سے پُر پالیسیوں پر عمل کی بجائے پی ٹی آئی حکومت نے ملکی معیشت میں نمایاں تبدیلیاں لانے کیلئے مشکل راستہ اختیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے کی جانے والی بنیادی تبدیلیوں میں ۱) برآمدات کی حوصلہ افزائی اور درآمدات میں کمی، ۲) منی لانڈرنگ کی روک تھام، ۳) کالے دھن اور غیر اعلانیہ دولت کو دستاویزی شکل دینا۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت کی معاشی حکمت عملی طویل عرصہ تک پائیدار ہوگی لیکن قلیل مدتی مشکلات ضرور پیش آئیں گی۔ روپے کی قدر میں زبردست کمی کے باوجود برآمدات میں اضافہ نہ ہونے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ آئندہ تین ماہ میں برآمدات میں اضافہ نظر آئے گا۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More