Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

ڈی جی تبادلہ، وزیراعلیٰ اورصوبائی وزیر شہرام خان میں اختلافات

پشاور(ارشدعزیز ملک)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوامحمودخان اورسینئروزیربلدیات شہرام خان ترکئی کے درمیان ڈائریکٹرجنرل پشاورڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے تبادلے پر اختلافات پیداہوگئے ہیں ۔سینئروزیربلدیات نے ڈی جی اسرارالحق کے تبادلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس اقدام پر اعتماد میں نہیں لیا گیا۔شہرام ترکئی اس وقت بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے لئے کاسٹریکا میں موجود ہیں ۔جنگ سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ محمودخان نے ڈی جی کے تبادلے کے حوالے سے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا اورنہ ہی انہیں اعتماد میں لیا ہے حالانکہ بیرون ملک روانگی سے پہلے انہوں نے وزیراعلیٰ سے ملاقات کی تھی تاہم انہوں نے اس حوالے سے فیصلے سے آگاہ نہیں کیاتھاتاہم نیویارک پہنچتے ہی مجھے میڈیاکے ذریعے تبادلے کا علم ہوا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت میں تمام معاملات پر مشاورت ہوتی ہےلہٰذا وہ وطن واپسی پر وزیراعلیٰ کے ساتھ یہ معاملہ اٹھائیں گے ۔ ذرائع کے مطابق14جنوری2019کووزیراعلیٰ محمودخان کی زیرصدار ت ایک اجلاس
منعقد ہواجس میں فیصلہ کیا گیاکہ بی آرٹی کے حوالے سے3رکنی ٹیم منصوبے کے مختلف نقائص کاجائزہ لے گی اورانہیں حل کرنے کے لئے تجاویزدے گی۔ کمیٹی میں صوبائی انسپکشن ٹیم کے ممبریعقوب،سیکرٹری ٹرانسپور ٹ کامران رحمان اور ڈی جی پی ڈی اے اسرارالحق شامل ہونگے۔ تاہم اجلاس کے فیصلوں کے برعکس صوبائی انسپکشن ٹیم نے اپنی یکطرفہ رپورٹ جاری کردی جس میں سیکرٹری ٹرانسپورٹ اور ڈی جی پی ڈی اے کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اورنہ ہی رپورٹ پر انکے دستخط موجود ہیں۔اس سلسلے میںصوبائی انسپکشن ٹیم کی بی آرٹی منصوبےسےمتعلق منظر عام پرآنے والی 27صفحات پر مشتمل رپورٹ کے مطابق عوام کے پیسے کو بی آر ٹی پر ضائع کیا گیااور؛ ناقص منصوبہ بندی ،ڈیزائن پروجیکٹ کے کام میں غفلت برتی گئی،رپورٹ میں کئی خامیوں کی نشاندہی بھی کی گئی۔ فیزیبیلیٹی سٹڈی ،نکاسی آب جیو ٹیکنکل رپورٹ،ہائی وے رپورٹ ،ساخت رپورٹ، ٹریفک ،یوٹیلیٹی رپورٹ میں خامیوں کے باعث منصوبے میں تبدیلیاں کی گئیں،منصوبے کی تکمیل میں عوامی خزانے کو نقصان پہنچا، ناقص منصوبہ بندی کےباعث ٹریفک کےنظام شدید متاثرہوگیا، ریچ تھری میں یونیورسٹی روڈ اور بورڈ کے واک آوے متاثر ہوئے ہیں، مستقبل میں موجودہ سگنلز سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا، پی سی ون میں شور اور شہریوں کی نجی آزادی کا خیال نہیں رکھا گیا، پیدل سفرکرنےوالےلوگوں کی گزرگاہوں کاخیال نہیں رکھاگیا، بی آرٹی باتھ رومز انتہائی ناقص اور غیر معیاری بنائےجاچکےہیں، بعض مقامات پربائک کانظام ہےبعض جگہ نہیں جومستقبل میں مشکلات پیداکریگا، غیر معیاری منصوبہ سے جگہ جگہ کریک آنے لگے ہیں، صوبائی انسپکشن ٹیم کی تجاویز بھی رپورٹ میں شامل ہیں جن کے مطابق ناقص منصوبہ بندی سے وابستہ اداروں کا احتساب کیا جائے، ٹریفک کا مناسب بندوبست کرکےشہریوں کیلئےآسانی پیداکی جائے، تہکال،آبدرہ،بورڈ بازار مناسب جگہ شفٹ کئے جائے، پشاور یونیورسٹی کے اطراف کی زمین خریدنےکی سفارش، کشادگی کی جائے ۔چار لین کی بجائے تین لین بنائی جائے، ٹریفک کنٹرول کرنے کے لیے سپیڈ بریکر بنائے جائیں، بزرگ شہریوں کو روڈ کراس کی مناسب سہولتیں دی جائیں، رپورٹ میں نکاسی آب نظام پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ نکاسی آب کا مناسب بندو بست کیا جائے،پی ڈی اے کو منصوبے کے حوالے سے قانونی مشاورت جلد سے جلد کرنی چاہیئے۔ کریک کے حوالے سے یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے تکنیکی مدد لی جائے

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More