Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

99.9 فیصد افسروں کو تفتیش کے بنیادی طریقہ کا علم نہیں : چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ

لاہور(نامہ نگار خصوصی،آن لائن) چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس سردار شمیم احمد خان نے کہا ہے کہ بنکنگ کورٹ میں زیر التوا مقدمات محض دو فریقین کے درمیان تنازعات نہیں ہوتے بلکہ ان مقدمات کا بالواسطہ یا بلا واسطہ تعلق ملکی معیشت سے ہوتا ہے ، جوڈیشل اکیڈمی میں بنکنگ کورٹ کے ججز اور انوسٹی گیشن آفیسرز سے خطاب میں چیف جسٹس نے واضح کیا کہ بنکنگ کورٹ کے فیصلے ملکی معیشت کی سمتوں کا تعین کرتے ہیں،بنکنگ کورٹ کی اہمیت دیگر عدالتوں سے اس طور پر بھی مختلف ہے کہ ان عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کا تعلق وائٹ کالر کرائم سے بھی ہو سکتا ہے ، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس سردار شمیم احمد خان نے زور دیا کہ بینکوں سے متعلق مقدمات میں بعض مرتبہ پیچیدہ مالیاتی اور حسابی امور زیر بحث آتے ہیں اس لیے بنکنگ جج کو زیادہ مستعدی باریک بینی اور محنت سے کام لینا ہوتا ہے ، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے افسوس کا اظہار کیا کہ 99.9 فی صد انوسٹی گیشن آفیسرز کو معلوم ہی نہیں کہ انوسٹی گیشن کیسے کی جاتی ہے ،تفتیشی افسران یہ تک نہیں جانتے کہ کون سے شواہد عدالتوں میں قابل قبول ہیں اور کونسے شواہد قابل قبول نہیں ہیں اگر کسی وقوعہ میں عینی شاہد موجود ہوں تو معاملہ حل کرنا آسان ہو جاتا ہے لیکن اگر کسی وقوعہ میں مجرم کا پتا نہ ہوتوتفتیشی آفیسر کا امتحان شروع ہوتا ہے ، گنہگار کو گنہگار اور بے گناہ کو بے گناہ قرار دلوانے میں سب سے اہم کردار تفتیشی آفیسر کا ہوتا ہے ، دور حا ضر میں پولیس کے تفتیشی عمل کو درست کرنے اور اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کی اشد ضرورت ہے ۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More