Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

اشرف غنی حکومت 22مئی کو ختم،عبوری حکومت کے قیام میں ڈیڈ لاک

اسلام آباد (رپورٹ:الماس حیدر نقوی) افغانستان میں ڈاکٹر اشرف غنی کی حکومت 22مئی کو ختم ہو جائیگی ، حکومتی مدت ختم ہونے سے پہلے عبوری حکومت کا قیام ڈیڈ ک لاک کا شکار، عبوری حکومت کا سربراہ کو ن ہو؟، افغان طالبان نے امریکی تجاویز مستر دکر دی ہیں، زلمے خلیل زاد کے نام پر بھی اعتراضات اٹھا دیئے ، محمد عمر دائودزئی اور عبدالستار سیر ت بھی قابل قبول نہیں ، افغان حکومت سمیت افغان دھڑوں کے ساتھ مذاکرات کیلئے غور شروع کر دیا گیا تاہم اس پر پیشرفت ہوسکتی ہے ۔ افغان مفاہمتی عمل سے باخبر ذرائع نے روزنامہ دنیا کو بتایا کہ افغانستان میں ڈاکٹر اشرف غنی کی سربراہی میں اتحادی حکومت 22مئی کو ختم ہو جائیگی جبکہ ملک میں صدارتی انتخابات سے قبل آئینی اصلاحات کیلئے افغان طالبان سمیت تمام افغان دھڑوں پر مشتمل حکومت کے قیام کیلئے کوششیں جاری ہیں ۔ اس حوالے سے افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے پانچ ادوار ہوچکے ہیں ، افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان معاملات طے پاجانے کے بعد افغانستان میں پائیدار امن کیسے ممکن ہو؟نظام حکومت کیساہوناچاہیے ؟ ،اس حوالے سے افغان دھڑوں کے درمیان مشاورت کی ضرورت ہوگی تاہم طالبان ، امریکہ مذاکرات کے باوجود ابھی تک ان نکات تک نہیں پہنچے جہاں پر افغانستان کے اندرونی معاملات پر گفت وشنید ہوسکے ۔معاملات طے پاجانے کے بعد افغانستان میں حکومتی نظام کیسا ہو اس پر فریقین کے د رمیان امور ضرور زیر بحث رہے ہیں ،ابھی تک دو آپشنز پرغور کیا گیا ہے ، متناسب نمائندگی پر مشتمل عبوری حکومت تشکیل دی جائے جس میں تمام افغان دھڑوں کو متناسب نمائندگی دی جائے جس کی مدت تین ماہ ہو اور وہ اختلافی امور پر اتفاق رائے سے نظام حکومت کے خدوخال واضح کر سکے ۔ اسی طرح دوسرا سیٹ کونسل آف ہیڈز تشکیل دینے سے متعلق ہے جس میں افغان حکومت، حزب اختلاف کی جماعتوں ، طالبان نمائندوں کے علاوہ دیگر تمام شراکت دار وں کی شمولیت ہوگی اور وہ افغانستان کے ا ٓئندہ نظام حکومت کے ڈھانچے کو واضح کر سکے ۔ عبوری نظام کا سربراہ کون ہو ،طالبان نے امریکی تجاویز کو تسلیم کرنے سے انکا رکر دیا جس میں عبوری نظام کے سربراہ کی دوڑ میں نمائندہ خصوصی برائے افغان امن عمل زلمے خلیل زاد کا نام بھی شامل تھا۔ افغان سیاستدان محمد عمر دائودزئی جبکہ سابق وزیرانصاف عبدالستار سیر ت کے ناموں پر بھی پیشرفت نہ ہوسکی ۔ دو حا مذاکرات میں ابھی تک کے مختلف ادوار میں امریکی افواج کے انخلا، افغان سرزمین کا کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے کی یقین دہانیوں پر اتفاق رائے پید اہوچکا ہے ، اسی طرح جامع جنگ بندی اور افغان دھڑوں کے درمیان مذاکرات پر بھی پیشرفت نہیں ہوئی ۔ چار اہم امور میں سے دو پر ڈرافٹ کی جزیات پر مذاکراتی ٹیموں پر اتفاق رائے پیدا ہوچکا ہے جس پر افغان طالبان اور امریکی صدر اپنی اپنی قیادت کے ساتھ مشاورت کے بعد دوبارہ مذاکرات میں زیر بحث لائیں گے ۔ ذرائع کے مطابق اپریل میں امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا اگلا مرحلہ دوبارہ شروع ہوسکتا ہے ۔ پاکستان کے دورے پر آنیوالے زلمے خلیل زاد افغان قیادت کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد پاکستان پہنچ رہے ہیں جس میں نئی تجاویز کو زیر بحث لایا جاسکتا ہے ، عبوری نظام حکومت کے حوالے سے نئے ناموں پر غور ہوسکتا ہے

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More