Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

لیگی دورمین اضافی حج کوٹہ نجی آپریٹر کو دئیے جانے کا انکشاف

سلام آباد ( اپنے سٹاف رپورٹر) وزارت مذہبی امور کے حکام نے انکشاف کیا ہے کہ مسلم لیگ ن کے دور حکومت مین سعودی حکومت سے ملنے والاپانچ ہزارحجاج کا اضافی کوٹہ پرائیویٹ ٹور آپریٹرز کو دیاگیا ۔ کوٹہ من پسند کمپنیوں میں تقسیم کیا گیا ۔ سعودی عرب نے فی الحال اسلام آباد کو روڈ ٹو مکہ منصوبہ کا حصہ بنایا ہے ۔ مولانا اسعد محمود کی صدارت میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کا اجلاس ہوا۔ کمیٹی کو بریف کرتے ہوئے سیکرٹری وزارت مذہبی امور مشتاق علی نے حج کوٹہ پر بریفنگ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی حالیہ مردم شماری تاحال اقوام متحدہ میں رجسٹرڈ نہیں ہوئی جب ہو جائیگی اس کے بعد حج کوٹہ میں اضافہ ہو جائے گا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ سال ملنے والے پانچ ہزار اضافی کوٹہ وزارت نے پرائیویٹ ٹور آپریٹرز کو دیدیا تھا جس پر رکن شگفتہ جمانی نے کہا کہ جن آپریٹرز کو یہ اضافی کوٹہ دیا گیا اس کی تفصیل کمیٹی کو فراہم کی جائے۔ بریفنگ مین بتایا گیا کہ پرائیویٹ ٹورآپریٹر پانچ فیصد حجاج کو سرکاری حج پیکج پر لے جانے کے پابند ہیں جبکہ امسال سعودی عرب سے مزید چودہ ہزار کوٹہ ملنے کا امکان ہے ۔ شاہدہ اختر نے حکام کو تمام کمپنیوں کا ڈیٹا وزارت کی ویب سائٹ پر فرائم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ جبکہ ارکان نے کمپیوٹرائزڈ بلیسٹنگ پر اعتراض اٹھایا ۔ سیکرٹری وزارت مذہبی نے کہا کہ ماضی میں حج کوٹہ کی تقسیم غیر شفاف ہوتی رہی ہے اس بات کو تسلیم کرتا ہوں ماضی مین حج کوٹہ من پسند کمپنیوں میں تقسیم کیا گیا ۔ 801 کمپنیوں کو 2005 سے کوٹہ ملتا آرہاہے چودہ ہزار اضافی کوٹہ ملنے پر دوبارہ قرعہ اندازی کروائی جائیگی ۔ سعودی عرب نے فی الحال اسلام آباد کو روڈ ٹو مکہ منصوبہ کا حصہ بنایا ہے۔ روڈ ٹو مکہ کے لئے چارٹرڈ فلائٹس کی شرط رکھی ہے ۔ روڈ ٹو مکہ منصوبے کا اطلاق پرائیویٹ ٹور آپریٹر پر نہیں ہو گا ہماری پی آئی اے ، ائیر بلیو اور سعودی ائیر لائن سے چارٹرڈ طیاروں کے لئے بات چل رہی ہے ۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More