Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

 پاکستانی معیشت 2 سال خراب رہے گی، پیداوار کم، مہنگائی اور قرضوں کا بوجھ بڑھے گا، عالمی بینک

اسلام آباد(مہتاب حیدر)پاکستانی معیشت 2سال خراب رہیگی،پیداوار کم، مہنگائی اور قرضوں کا بوجھ بڑھے گا 145عالمی بینک نے ایشیائی بینک سے بھی زیادہ خراب صورتحال کی پیشگوئی کردی ہے۔عالمی بینک نے جنوبی ایشیا سے متعلق اپنی علاقائی رپورٹ بعنوان 146146ایکسپورٹ وانٹڈ145145 میں کہا ہے کہ مالی سال 2019ء میں پاکستان کی اقتصادی ترقی کی شرح 3.4اور مالی سال 2020ءمیں 2.7فیصد رہنے کی توقع145ہنگامی اصلاحات نافذ کی جائیں تو 2021 تک پاکستانی معیشت کی شرح نمو 4 فیصدہو سکتی ہے۔جب کہ عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان الانگو پچاموتھو کا کہنا ہےکہ پاکستان کے لئے ضابطہ جاتی ماحول کو بہتر بنانا اور تجارت میں آسانیوں کو قائم کرنا ممکن ہےتاہم، مواصلات کے محاذ پر بھی اصلاحات ضروری ہیں۔تفصیلات کے مطابق،عالمی بینک نے پاکستان کی معیشت کی تشویشناک اور مایوس کن منظر کشی کی ہے اور کہا ہے کہ آئندہ دو برس میں شرح ترقی سست روی کا شکار رہے گی ،

جب کہ مہنگائی کے ساتھ ساتھ قرضوں کا بوجھ بھی بڑھے گا۔عالمی بینک کے مطابق، مالی سال 2019میں جی ڈی پی کا خودمختار قرض 80فیصد سے زائد ہوسکتا ہے اور آئندہ دو برس تک مستحکم رہنے کےلیے قرضوں سے متعلق صدموں کے لیے پاکستان کے اکتشاف میں اضافہ کرنا ہوگا۔ عالمی بینک نے جنوبی ایشیا سے متعلق اپنی علاقائی رپورٹ بعنوان 146146ایکسپورٹ وانٹڈ145145اتوار کو شائع کی ، جس میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2019اور مالی سال 2020میں غربت میں کمی کی رفتار میں سست روی برقرار رہے گی،جس کے بعد ترقی سست روی کا شکار ہوگی اور مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوگا۔رپورٹ میں مالی سال 2019ءمیں اقتصادی ترقی کی شرح 3.4اور مالی سال 2020ءمیں 2.7فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہےکیوں کہ حکومت نے مالیاتی اور زری پالیسی میں سختی کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اندرونی طلب میں کمی آئے گی جبکہ برآمدات میں مرحلہ وار اضافہ ہو گا۔عالمی بینک نے کہا ہے کہ اگر پاکستان میں ہنگامی اصلاحات نافظ کی جائیں تو 2021 تک پاکستانی معیشت کی شرح نمو 4 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔ا س صورت حال سے اندازہ ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں استحکام رہے گا ، جب کہ سیاسی اور سیکورٹی خدشات میں کمی آئے گی۔مالی سال 2019کے دوران مہنگائی میں 7اعشاریہ1فیصداوسط اضافہ متوقع ہے، جو کہ مالی سال 2020میں 13اعشاریہ5فیصد تک پہنچ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں شرح مبادلہ میں مزید کمی منتقل ہوجائے گی۔مالی سال 2019کے دوران تجارتی خسارہ بڑھتا رہے گا ، جب کہ مالی سال 2020اور مالی سال 2021میں کرنسی کی قدر میں کمی ، ملکی طلب کا دبائو اور درآمد کے حصول کو روکنے کے لئےدیگر ریگولیٹری اقدامات کیے جائیں گے۔ترسیلات زر ، تجارتی خسارے کے 70فیصد سے زائد کی پیش گوئی کی گئی ہے۔مالی سال 2019کے دوران مالی خسارے میں بھی 6اعشاریہ9فیصد اضافہ متوقع ہے، جب کہ مالی سال 2020اور مالی سال 2021میں بھی اس میں اضافہ ہوگا، جس کی وجہ سود کی بھاری ادائیگیاں اور ملکی آمدنی میں سست روی ہوگی۔عالمی بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ساختی اصلاحات پر عمل درآمد کی فوری ضرورت ہے تاکہ مالی سال 2021اور اس کے بعد ترقی میں مدد مل سکے۔آئی ایم ایف سے مذاکرات میں طوالت کے باعث اقتصادی غیر یقینی میں اضافہ ہوا ہے۔جب کہ خطے میں حالیہ تنائو کے باعث بھی خدشات میں اضافہ کیا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہےکہ بڑھتی ہوئی شرح مہنگائی کے سبب غربت میں خاتمے میں جو حالیہ کامیابی ملی تھی وہ تھم سکتی ہے کیوں کہ قیمتوں میں اضافے سے شہری علاقوں میں رہنے والے غریب طبقے کے افراد زیادہ متاثر ہوئے ہیں ۔پاکستان میں جاری کھاتے کا خسارہ بڑھتا رہے گا تاہم گزشتہ برس کے مقابلے میں اس میں استحکام ہے کیوں کہ 2018کی چوتھی سہ ماہی میں یہ جی ڈی پی کا 5اعشاریہ2فیصد تھا۔گزشتہ چھ ماہ کے دوران پاکستان کی کرنسی کی قدر میں کمی کا سلسلہ اپنے تجارتی شراکت داروں کے مقابلے میں جاری ہے ، جب کہ بھارت کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔پلوامہ واقعے کے بعد بھارت 145پاکستان کے حوالے سے پسندیدہ قوم کی حیثیت سے دستبردار ہوگیا تھااور اس نے پاکستان سے تمام درآمدی اشیا پر 200فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد کردی تھی۔پاکستان میں بیرونی کھاتے کے دبائو نے عالمی ذخائر میں کمی کی ہے جوجنوری 2019کے وسط تک 6اعشاریہ6ارب ڈالرز تک ہوگئے ہیں ۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف سے پیکج کے لیے پاکستانی حکومت کے مذاکرات جاری ہیں۔رپورٹ کے مطابق، پاکستان اور بنگلا دیش میں قوزی گرانی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہےاور حال ہی میں سری لنکا میں بھی اضافہ ہوا ہے۔پاکستان میں مہنگائی کی وجہ شرح مبادلہ میں کمی، طلب کا دبائو اور بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں ہیں ۔فروری 2018 سے فروری 2019کے درمیان صارف کے لیے قیمتوں میں 8اعشاریہ2فیصد تک اضافہ ہوا ہے، جو کہ جنوبی ایشیا میں بالحاظ شرح سب سے زیادہ ہے۔گزشتہ مالی سال کے دور ان پاکستا ن میں ریکارڈ تجارتی خسارہ ہوا ، جو کہ 31اعشاریہ1ارب ڈالرز تھا، جس کی وجہ سے جاری کھاتے کا خسارہ جی ڈی پی کے 6اعشاریہ1فیصد تک پہنچ گیا۔2005سے 2018کے درمیان پاکستان کی برآمدی اشیاء 16ارب ڈالرز سے بڑھ کر 23ارب ڈالر ز تک پہنچی ، یعنی اس میں صرف 47فیصد اضافہ ہوا، اس کے مقابلے میں بنگلا دیش میں یہ اضافہ 286فیصد، ویتنام میں 563فیصد اور بھارت میں یہ اضافہ 193فیصد تک ہوا۔پاکستان میں مسابقتی عمل کے متاثر ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں ۔ان میں مہنگا کاروبار، قابل استطاعت قیمت پر بجلی کی فراہمی اور مالیات تک رسائی شامل ہے۔تاہم تین عوامل نے برآمد کنندگان کو براہ راست متاثر کیا ہے۔ان میں تجارتی پالیسی کا برآمدات مخالف تعصب، برآمداد کی بہتری کے انفرا اسٹرکچر کا ناموزوں ہونا اور براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کے گرد مبہم ریگولیٹری نیٹ ورک شامل ہیں۔ساؤتھ ایشیا اکنامک فوکس کے تازہ ترین شمارے میں شائع ششماہی رپورٹ میں عالمی بینک نے کہا کہ جنوبی ایشیا دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے ترقی کرنے والا خطہ ہے جہاں رواں سال شرح نمو بڑھ کر 7 فیصد تک پہنچ جائے گی جبکہ 2020 اور 2021 میں یہ 7.1 فیصد ہو جائیگی تاہم عالمی بینک نے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیا کے ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی بھرپور استعداد کے مطابق معاشی ترقی اور موجودہ رفتار برقرار رکھنے کے لیے برآمدات کو بڑھائیں۔عالمی بینک نے پاکستان کی بد سے بدتر ہوتی معیشت پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ 2019 میں پاکستان کی شرح نمو کم ہو کر 3.4 ہو جائے گی اور مالی سال 2020 میں یہ مزید کم ہو کر 2.7 تک پہنچ جائے گی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ مانیٹری پالیسی میکرو اکنامک عدم استحکام کے مسائل کو حل نہیں کر سکیں گی، مقامی سطح پر مانگ میں کمی ہو گی اور اسی طرح برآمدات کے فروغ میں مدد ملے گی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کے صنعتی اور زرعی شعبے میں بھی ترقی کی شرح آہستہ رہے گی تاہم عالمی بینک نے عندیہ دیا کہ اگر پاکستان معاشی اصلاحات کرتا ہے تو مالی سال 2021 تک شرح نمو بہتر ہو کر 4 فیصد تک پہنچ جائے گی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ترسیلات زر سے آئندہ سال کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس کو مدد ملے گی جبکہ بہتر اقدامات کے نتیجے میں 2021 میں معیشت کی بہتری کا امکان ہے۔عالمی بینک نے خدشہ ظاہر کیا کہ 2019 میں پاکستان کا تجارتی خسارہ بڑھتا رہے گا لیکن آئندہ 2 سال میں اس میں کمی کا امکان ہے۔عالمی بینک کے پاکستان میں کنٹری ڈائریکٹر الانگو پچاموتھو نے کہا ہے کہ پاکستان میں اقتصادی بڑھوتری کی بنیاد سرمایہ کاری اور پیداواریت ہونا چاہیے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان میں دیرپا بنیادوں پر اقتصادی بڑھوتری کا عمل آگے بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لئے ضابطہ جاتی ماحول کو بہتر بنانا اور تجارت میں آسانیوں کو قائم کرنا ممکن ہے۔ اسی طرح مواصلات کے محاذ پر بھی اصلاحات ضروری ہیں۔ انہوں نے 148احساس147 پروگرام اور معاشرے کے کمزور طبقات کے لئے دیگر حکومتی اقدامات کو اہم قرار دیا۔جنوبی ایشیا میں گزشتہ دو برس کے دوران برآمدات کے مقابلے میں درآمدات میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔2017میں درآمدات میں 14اعشاریہ9فیصد اضافہ ہوا اور 2018میں 15اعشاریہ6فیصد اضافہ ہوا۔جو کہ خطے کی برآمدات میں اضافے کا تقریباًدگنا ہے، کیوں کہ 2017میں برآمدات میں صرف 4اعشاریہ6فیصد اضافہ ہوا تھا اور 2018میں 9اعشاریہ7فیصد اضافہ ہوا تھا۔عالمی بینک کے چیف اکنامسٹ برائے جنوبی ایشیا ہینزٹمرکا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا کی برآمدی صلاحیت میں بہتری کا کوئی ایک حل نہیں ہےاور پالیسی سازوں کو چاہیئے کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ ایسی اصلاحات پر عمل درآمد کرائیں ، جس سے یہ خطہ آنے والے وقت میں دنیا کا ایکسپورٹ پاور ہائوس بن جائے۔ان کا کہنا تھا کہ تجارتی خودمختاری، انٹرپریونرشپ کی حوصلہ افزائی اور عالمی مارکیٹ کی طلب کے مطابق شہریوں کو فنی صلاحیتوں میں اضافے کے اقدامات کیے جانے چاہیئے۔ان کا کہنا تھا کہ اچھا ہوگا کہ اگر یہ کوششیں تخلیقی نوعیت کی ہوں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More