Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

18ویں ترمیم کو بہتر بنانے پر کوئی اعتراض نہیں، ایچ آر سی پی

لاہور (نمائندہ جنگ) پاکستان میں شراکتی جمہوریت کیلئے ضروری سمجھی جانے والی لوازمات میں ترمیم اور اکثریت کی شرکت پر مبنی ریاست (Majoritarian State) کے تصور کو ختم کرنے پر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ رجحان بند ہونا چاہئے کیونکہ یہ تکثیریت (Pluralism) کے دستور سے متصادم ہے۔ کمیشن نے اپنے 33ویں سالانہ عام اجلاس کے موقع پر جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ 18ویں ترمیم میں شامل کردہ اسکیم کو بہتر بنانے کے معاملے میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کو کوئی مسئلہ نہیں لیکن وفاقی یونٹس کے حقوق اور مفادات کو کم کرنے کی کوئی بھی کوشش ریاست کی ساکھ کو مجروح کرے گی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جس تیزی کے ساتھ پاکستان میں سول سوسائٹی کی تنظیموں کیلئے جگہ تنگ کی جا رہی ہے اس پر ایچ آر سی پی کو تشویش ہے، جب بھی اور جہاں بھی ریاست خدمات فراہم نہیں کر پائی وہاں ان تنظیموں نے خدمات فراہم کی ہیں، یہ باعث تشویش بات ہے کہ ان تنظیموں کو رجسٹریشن سے انکار اور غیر ضروری پابندیوں کا کہتے ہوئے کام نہ کرنے دیا جائے۔ ایسوسی ایشن کی آزادی آئینی حق ہے اور اس پر کسی بھی طرح کی پابندی ناقابل قبول ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملازمت سے برطرفیوں اور متنوع یا اسٹیبلشمنٹ مخالف آراء کا اظہار کرنے والے
صحافیوں (آن لائن اور دیگر) کو ہراساں کیے جانے کے واقعات کے ذریعے میڈیا زبردست دبائو میں آ چکا ہے۔ ان سب سے بڑھ کر دیکھیں تو پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگو لیٹر ی اتھارٹی (پیمرا) نے میڈیا پر غیر ضروری پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جن سے بظاہر کوئی ٹھوس مقصد حاصل نہیں کیا جا رہا۔ اس صورتحال نے اختلاف رائے رکھنے والوں کا دم گھونٹ کر رکھ دیا ہے اور یہ پاکستان کی جمہوری ترقی کیلئے سخت نقصان دہ ہے۔ ایچ آر سی پی نے ملٹری کورٹس کی توسیع پر مایوسی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اسے بحال نہیں کرنا چاہئے، ان عدالتوں کے ساتھ جڑے تمام معاملات باعثِ تشویش ہیں۔ ملٹری کورٹس یقینی طور پر غیر جمہوری ہیں اور انہیں برقرار رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ قانون کی بالادستی جوڈیشل اور پولیس میکنزم کے ذریعے نافذ کی جانا چاہئے اور ان ہی اداروں کے پاس سویلین انداز سے سویلین مینڈیٹ کے ساتھ امن عامہ برقرا ر رکھنے کی ذمہ داری ہونا چاہئے۔ ایچ آر سی پی نے خصوصاً سندھ میں جبری طور پر مذہب تبدیل کرنے کے بڑھتے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ بظاہر یہ کام منظم انداز سے اور بظاہر دانستہ کیا جا رہا ہے اور اسے وسیع پس منظر میں اس انداز سے دیکھنا چاہئے کہ ایسی لڑکیوں اور نوجوان خواتین کو جبری طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے جو سماجی و اقتصادی حیثیت اور طبقے کے لحاظ سے پسماندہ ہیں۔ پر یشا ن کن بات یہ ہے بلوچستان میں نئے تنازعات پیدا کیے جا رہے ہیں اور اب یہ پشتون علاقوں تک پھیل گئے ہیں۔ بلوچستان لیویز پر ہونے والے حالیہ حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدت پسندی کچھ علاقوں میں اب بھی باقی ہے اور صوبے کیلئے سنگین مسئلہ ہے۔ ایچ آر سی پی نے ریاست سے مطالبہ کیا ہے کہ جبری گمشدگیوں کی روک تھام کیلئے بین الاقوامی کنونشن پر دستخط کیے جائیں۔ ایچ آر سی پی نے ریاست سے اپیل کی ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو بھی وہی حقوق حاصل ہوں جو آئین پاکستان میں دیگر شہریوں کو حاصل ہیں، گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کا تعین جلد از جلد ہونا چاہئے۔ گلگت بلتستان آرڈر 2018ء کا نفاذ اب بھی متنازع ہے اور علاقے کے لوگوں کے جذبات کو وزن دینا چاہئے۔ گلگت بلتستان کی عدالتوں میں ججوں کی خالی اسامیوں کو جلد از جلد پر کیا جائے

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More