Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

لاہور ہائیکورٹ: ڈیڈ ہاؤسز میں پڑی خواتین کی لاشوں کا ڈی این اے کرانے کا حکم

لاہور(نامہ نگار خصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس سردار شمیم احمد خان نے تین سال سے اغوا 21 سالہ لڑکی کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر ڈی آئی جی انویسٹیگیشن کو تمام ڈیڈ ہائوسز میں پڑی خواتین کی لاشوں کا ڈی این اے کرانے کا حکم دیدیا۔عدالت نے پولیس ڈی این اے کراکے 15 جولائی کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔چیف جسٹس نے سی سی پی او لاہور کی ڈی این اے کرانے کی اجازت کیلئے درخواست دائر کی۔ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ لاپتہ لڑکی فرحانہ کا خودکشی سے قبل اپنے والد کو لکھا گیا خط سامنے آیا ہے ۔تفتیش کو آگے بڑھانے کے لیے ڈی این اے کرانے کی اجازت درکار ہے ۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ بیٹی فرحانہ بی بی کو 2015 میں اغوائکیا گیا۔پولیس تین سال گزرنے کے باوجود بیٹی کو بازیاب نہیں کراسکی۔فاضل عدالت نے معاملے پر از خود نوٹس لیا مگر اس کے باوجود پولیس نے کارروائی نہیں کی۔ علاوہ ازیں لاہورہائیکورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک نے ریٹائرڈ سرکاری افسر کو پنشن نہ دینے کے خلاف درخواست پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پانچ سال گزر گئے ہیں سرکاری ملازم کو ریٹائر ہوئے لیکن ابھی تک اسے پنشن ادا نہیں کی گئی جوکہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے کوئی قانون سرکاری ملازم کی پنشن روکنے کی اجازت نہیں دیتا۔ فاضل جج نے استفسار کیا کہ بتایا جائے کس قانون کے تحت سرکاری افسر کی پنشن کو روکا گیا ہے ۔ عدالت نے حکم دیا کہ 24 گھنٹے میں پنشن کے کاغذات مکمل کرکے عدالت میں رپورٹ پیش کی جائے ۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کے خلاف 31ملین کی کرپشن کے الزامات ہیں جبکہ 28ملین اس کی پنشن کے بنتے ہیں۔ اس پر فاضل جج نے کہا انکوائری ایک علیحدہ معاملہ ہے جبکہ پنشن کی ادائیگی علیحدہ، دونوں کو اکٹھا کیسے کیا جاسکتا ہے ۔درخواست گزار سرفراز نے عدالت کو بتایا کہ ڈائریکٹر پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن کے عہدہ سے 2014 میں ریٹائر ہوا۔محکمہ نے ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن روک لی اور ابھی تک پنشن ادا نہیں کی گئی۔دریں اثنالاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک نے حج کوٹہ پالیسی کے خلاف درخواست پر وفاقی حکومت،وزارت مذہبی امور،وزارت حج سے آئندہ ہفتے جواب طلب کر لیا۔ عدالت نے وزارت مذہبی امور کی طرف سے جواب داخل نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا آئندہ سمات پر ہو صورت جواب داخل کیا جائے آئندہ مزید مہلت نہیں دی جائیگی۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More