Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

ڈرافٹ سکیم ، بے نامی اثاثوں پر 10 فیصد کی شرح سے ٹیکس ادا کرنا ہوگا

اسلام آباد( عترت جعفری) مجوزہ ایسٹ ڈکلیریشن سکیم میں اگرچہ پبلک آفس ہولڈرز جن میں موجودہ اور ریٹائرڈ بیورو کریسی اور سیاست دان اس سکیم سے استفادہ نہیں کرسکیں گے تاہم ذرائع کا ہے کہ بعض حلقے کہہ رہے ہین کی اعلی ترین سطح پر اس معاملہ پر از سر نو بھی غورممکن ہے وزیر خزانہ کی واشنگٹن روانگی کے پیش نظر ایشوز زیر غور نہیں آسکا ۔ وزیراعظم نے بیوروکریسی اور سیاستدانوں کو ایمنسٹی دینے کو مسترد کیا تھا مجوزہ سکیم کے ساتھ قانون میں سختی بھی لائی جائے گی۔ سکیم سے استفادہ نہ کرنے اورپکڑے جانے والے کو اس وقت تک جیل میں رکھا جائے گا جب تک کہ وہ ایف بی آر کی جانب سے لگائے گئے ٹیکسوں کے تخمینہ کی ادائیگی نہیں کردیتا ۔ ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے تحت ظاہر کیے جانے والے بے نامی اثاثہ جات پر ٹیکس کی شڑح زیادہ خفیہ بینک اکاؤنٹ اور منقولہ اثاثہ جات ہیں پر اسے کم اور بیرون ملک سے پاکستان لائے جانے والے اثاثہ جات پر سب سے کم شرح سے ٹیکس لگانے کی تجویز ہے تاہم وزیراعظم کو پیش کیے گئے ایمنسٹی سکیم کے تحت ٹیکس کی شرحوں کو وزارت خزانہ کی سفارش کردہ شرح سے کم رکھنے کا امکان ہے ۔ ڈرافٹ اسکیم کے تحت بے نامی اثاثوں پر دس فیصد کی شرح سے ٹیکس ادا کرنا ہو گا ۔ اور دوسرے آثاثہ جات کی مالیت کا 7.5 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہو گا بیرون ملک سے زرمبادلہ واپس لانے والے پانچ فیصد کی سفارش کی گئی ہے ۔ بے نامی بینک اکاؤنٹس میں موجود رقم پر دو فیصد کی شرح سے یکم جنوری 2017 
سے15 اپریل 2019 تک دو فیصد کی شرح سے ٹیکس لاگو کرنے کی تجویز ہے ۔ وزیر خزانہ واشنگٹن میں آئی ایم ایف کے حکام کے ساتھ ملاقاتوں مین سیکم کے بارے مین ادارے کو اعتماد میں لیں گے ،جبکہ جمعہ سے قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہو رہاہے اور وزیر خزانہ بھی موجود نہیں اس کے باعث آرڈنینس کے اجراء کا امکان معدوم ہوتاجا رہاہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More