Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

خیبر پختونخوا کے 60فیصد اساتذہ تعلیمی نصاب پڑھا نہیں سکتے

پشاور(ارشد عزیز ملک )خیبر پختونخوا کے سرکاری پرائمری سکولوں میں تعینات اساتذہ کی قابلیت کا پول کھل گیا 60فیصد نصاب نہیں پڑھاسکتے جس سے سرکاری اسکولوں کے بچوں کا مستقبل دائو پر لگ گیا ہے ۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق اساتذہ کواپنے مضامین پر مکمل عبور ہے اور نہ ہی وہ اپنا علم بچوں تک منتقل کرنے کی مہارت رکھتے ہیں۔اساتذہ کو صرف 30 سے 40 فیصد کورس پر عبور ہے جبکہ صرف 15 سے 30 فیصد بچوںکو سیکھانے کا فن جانتے ہیں۔قومی زبان اردو میں اساتذہ کی قابلیت30فیصداور انگریزی میں 35 فیصد ہے۔خیبر پختونخوا ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکشن کی2018کیTeacher Content Knowledge Assessment Report کے مطابق صوبے کے 25اضلاع کے 1800سکولوں کے تیسری سے پانچویں جماعتوں کے 2773مرد و خواتین اساتذہ کا ٹسٹ لیا گیا جس میں1773مرد اور996خواتین اساتذہ شامل تھیں تمام اساتذہ حساب، انگلش ، اردو اور سائنس کے مضامین میں اوسطا صرف 40فیصد نمبر حاصل کر سکے جبکہ 60فیصد تعلیمی نصاب کو پڑھا نہیں سکتے۔رپورٹ کے مطابق 2017 کے دوران اساتذہ نے 47 فیصد جبکہ 2018 کے دوران دو پوائنٹس کے اضافہ کے ساتھ 49 فیصد نمبر حاصل کئے ۔نیشنل ٹیسٹنگ سسٹم کے ذریعے بھرتی اساتذہ کی کارکردگی ماضی کے اساتذہ سے 12.2 فیصد بہتر رہی جبکہ تعلیمی لحاظ سے زیادہ پڑھے لکھے اساتذہ نے پرانے کم پڑھے لکھے اساتذہ سے 8.46 فیصد زیادہ سکو ر
کیا۔وزیر اعلی کے مشیر برائے تعلیم ضیا ء اللہ بنگش نے اعتراف کیا ہے کہ اساتذہ نصاب اور بچوں کو سکھانے پر مکمل عبور نہیں رکھتے لیکن ان اساتذہ کو ماضی کی حکومتوں نےمیرٹ کے برعکس بھرتی کیا ہے جن کی پیشہ ورانہ استعداد کو مختلف تربیتی ورکشاپس کے ذریعے بہتر کیا جارہا ہے سات ہزار پرانے اساتذہ نے اسی بنا پر ریٹائیرمنٹ لے لی ہے اب ان کی جگہ پڑھے لکھے نوجوانوں کو این ٹی ایس کے ذریعے بھرتی کیا جارہا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق 2773اساتذہ سے2006کے قومی نصاب کے مطابق حساب، انگلش، سائنس اور اردو کے مضامین کاٹسٹ لیا گیا انکی قابلیت اور سکھانے کی مہارت کو جانچا گیا ۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More