Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

حکومت بجٹ 41کھرب کے بجائے51کھرب روپے مقررکرے،ایف بی آر 

اسلام آباد(مہتاب حیدر)پاکستان سے آئی ایم ایف کے اسٹاف کی سطح کے معاہدے کے لیے بڑے مالی توازن کی طلب کو پورا کرنے کےبڑھتے ہوئے تنازعے کے پیش نظر ایف بی آر نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ وہ اپنا ہدف آئندہ بجٹ 2019-20میں اپنا نظر ثانی شدہبجٹ 41کھرب روپے کے تخمینے کے بجائے 51کھرب روپے مقرر کرے۔مالی توازن کے تمام منصوبے اسی صورت قابل اطلاق ہوں گے جب پی ٹی آئی حکومت بجٹ خسارے کو ختم ہونے والے مالی سال کے جی ڈی پی کے 6اعشاریہ1فیصد سے لے کر 6اعشاریہ5فیصد تک محدود کرسکے گی اور اگر بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 7فیصد سے بڑھ جائے گا تو پی ٹی آئی حکومت کے لیے مالی توازن کے محاذ پر نتائج دینا مزید مشکل ہوجائے گا ، جب کہ وہ آئندہ بجٹ 2019-20میں خسارے کو جی ڈی پی کے 5سے 5اعشاریہ5فیصد تک کم کرنا چاہتی ہے۔عہدیدار کا کہنا تھا کہ ابتدائی توازن کو محدود کرنا حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہےتاکہ پہلے مرحلے پر آئی ایم ایف سے اسٹاف کی سطح کا معاہدہ کیا جاسکےاور اس کے بعد آئی ایم ایف کے فنڈ پروگرام پر ہر سہ ماہی کے گزرنے کے ساتھ تمام شرائط کے اطلاق کے ساتھ عمل درآمد کیا جاسکے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ حکومت نے باضابطہ طور پررواں مالی سال 2018-19کے دوران ایف بی آر کے ٹیکس جمع کرنے کے ہدف 4298ارب روپے تک کم کرنے پر نظر ثانی نہیں کی ہے۔تاہم، ٹیکس حکام نے وزارت خزانہ کو یہ واضح کردیا ہے کہ ایف بی آر زیادہ سے زیادہ 41کھرب روپے ہی جمع کرسکتا ہے، جس میں رواں مالی سال کے ابتدائی 9ماہ (جولائی تا مارچ)میں جس ٹیکس کمی کا سامنا تھا وہ 317ارب روپے کے اندر تھی۔جسے باقی ماندہ مدت میں پورا نہیں کیا جاسکتا ، جب کہ آخری سہ ماہی کے دوران باقی ماندہ مدت کا ہدف پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔جب کہ دوسری جانب آئی ایم ایف نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ ٹیکس کو جی ڈی پی کی شرح کے 13فیصد تک لے آئے جو کہ آئندہ مالی سال 2019-20کے 5460ارب روپے کے برابر ہے ۔ایسا اس وقت کہا گیا ہے جب ایف بی آر رواں مالی سال کے دوران 4000ارب روپے کی حد کو پار کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہا ہے۔ایف بی آر نے ابتدائی 9ماہ(جولائی تامارچ)کے دوران 2998ارب روپے کے مطلوبہ ہدف کے مقابلے میں 2681ارب روپے جمع کیے ہیں ، جس میں 317ارب روپے کی کمی واضح ہے۔اب 4398ارب روپے کے مطلوبہ ہدف کو پورا کرنے کے لیے ایف بی آر کو آخری سہ ماہی (اپریل تا جون)میں 1717ارب روپے جمع کرنے ہیں۔موجودہ صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے ایف بی آر نے حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ جمع کیا جانے والا ٹیکس 4000ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے ، وہ بھی ایسے وقت میں کہ جب معیشت سست روی کا شکار ہے اور پالیسی اقدامات سے بھی کمی واقع ہوئی ہے، اس لیے 4398ارب روپے کا مطلوبہ ہدف پورا نہیں کیا جاسکتا۔جب کہ دوسری جانب عالمی بینک نےٹیکس جمع کرنے والے ادارے کے لیے اصلاحاتی پروگرام کی تیاری کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کردی ہے کیوں کہ ٹیکس میں اضافے کووسط مدت کے دوران جی ڈی پی کی شرح کے 10سے15فیصد تک لے جانے کے لیے اصلاحاتی منصوبے کا اطلاق ضروری ہے۔ایف بی آر چاہتا ہے کہ اس کا سالانہ ٹیکس جمع کرنے کا ہدف جی ڈی پی کے 12فیصد تک مقرر کردیا جائے جوکہ آئندہ بجٹ 2019-20کے لیے 5040ارب روپے کے برابر ہے۔جب کہ آئی ایم ایف کا مطالبہ ہے کہ اسے 5460ارب روپے تک بڑھایاجائے ۔ایف بی آر نے اصلاحاتی منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لیے کنسلٹنٹس اور ماہرین کی خدمات حاصل کرلی ہیں ۔ان میں کمیونکیشن اسپیشلسٹ، پروکیورمنٹ اسپیشلسٹ اور دیگر شامل ہیں۔عہدیدار کا کہنا تھا کہ عالمی بینک نے آئندہ بجٹ میں ودہولڈنگ ٹیکسز میں 45سے 20-25تک کمی کی تجویز دی ہےتاکہ کاروبار میں آسانی کے مقاصد حاصل کیے جاسکیں۔عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ ایف بی آر کو صرف ریونیو میں اضافے کا نہیں بلکہ نظام کو بہتر کرنے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔اعلیٰ عہدیدار کا کہنا تھا کہ نظام میں بہتری لائے بغیر عمل درآمد میں کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی، اس لیے ہم نظام میں بہتری لائیں گے ، اس میں آسانی لائیں گے اور آئندہ بجٹ میں موثراورپائیدار اطلاق یقینی بنائیں گے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More