Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

پارلیمانی نظام پارلیمنٹ بھی ختم یا تبدیل نہیں کرسکتی،سپریم کورٹ کےفیصلے صدارتی نظام کی راہ میں رکاوٹ

اسلام آباد (انصا عباسی) ملک میں آئینی ترمیم کے ذریعے بھی صدارتی نظامِ حکومت متعارف نہیں کرایا جا سکتا کیونکہ سپریم کورٹ نے اپنے سابقہ فیصلوں میں پہلے ہی ’’پارلیمانی نظامِ حکومت‘‘ کو آئین کی بنیادی خصوصیات میں سے ایک قرار دے دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ خصوصیات پارلیمنٹ بھی ختم یا تبدیل نہیں کر سکتی۔ چند سال قبل سپریم کورٹ نے 18ویں اور 21ویں ترمیم کیس کے فیصلے، جسے جسٹس شیخ عظمت سعید نے تحریر کیا تھا، میں قرار دیا تھا کہ پارلیمانی نظامِ حکومت آئین کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک ہے اور کہا تھا کہ یہ خصوصیات پارلیمنٹ تبدیل کر سکتی ہے اور نہ ہی ختم کر سکتی ہے۔ سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کی روشنی میں نمایاں خصوصیات کے نظریے پر بحث کرتے ہوئے جسٹس عظمت نے پیرا نمبر 60؍ اور 61؍ میں لکھا تھا کہ ’’60۔ فیصلوں کے جائزے، جن کا حوالہ یہاں پیش کیا گیا ہے، جن میں خصوصاً محمود خان اچکزئی کا کیس (سپرا)، وکلاء محاذ کیس (سپرا)، ظفر علی شاہ کیس (سپرا) اور پاکستان لائرز
فورم کیس (سپرا) شامل ہیں، سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عدالت نے اہم خصوصیات کا حوالہ دیا ہے جو آئین کی تشریح کرتی ہیں اور یہ اس کی نمایاں خصوصیات بھی ہیں۔ مذکورہ بالا فیصلوں میں ان میں سے کچھ خصوصیات کا ذکر شامل ہے جن میں جمہوریت، وفاقیت، اسلامی شقوں کے امتزاج کے ساتھ پارلیمانی نظامِ حکومت، عدلیہ کی آزادی، بنیادی حقوق، مساوات، انصاف اور شفافیت شامل ہیں۔ 61۔ آئین کی نمایاں خصوصیات کے حتمی طور پر تعین کرنا ضروری نہیں ہے لیکن جمہوریت، پارلیمانی نظامِ حکومت اور عدلیہ کی آزادی یقینی ط ور پر اہم خصوصیات کا حصہ ہیں اور یہی نمایاں خصوصیات بناتی ہیں جو اس زیر سماعت مقدمے پر فیصلے کیلئے بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔‘‘ فیصلے کے اختتامی پیرا نمبر 180؍ میں کہا گیا ہے کہ آئین میں وہ اسکیم موجود ہے جو آئین کی تشریح کرنے والی بنیادی خصوصیات کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ نمایاں خصوصیات واضح ہیں اور آئین کے جامع اور ہم آہنگ ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ان نمایاں خصوصیات کی دریافت کیلئے آئین کے باہر کے مواد پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے اس کے بعد کہا، ’’یہ نمایاں خصوصیات آئین سے قابل تحقیق ہیں جن میں جمہوریت، پارلیمانی نظامِ حکومت اور عدلیہ کی آزادی شامل ہیں۔ پارلیمنٹ کے ترمیمی اختیارات کی کچھ حدود ہیں۔ آئین کی ترمیم کے متعلق آرٹیکل 238؍ اور 239؍ کے تناظر میں دیکھیں تو پارلیمنٹ کو اس وقت تک ترمیم کے اختیارات حاصل ہیں جب تک آئین کی نمایاں خصوصیات کو چھیڑا، مسترد یا واضح طور پر تبدیل نہ کیا جائے۔ اگرچہ مرکزی فیصلے، جس پر سپریم کورٹ کے 8؍ جج صاحبان کے دستخط ہیں، کو آئین کی بنیادی خصوصیات کے نظریے کے تحت کسی بھی ترمیم سے بچنے کیلئے تحفظ حاصل ہے لیکن اُس وقت کے چیف جسٹس ناصر المُلک نے اپنے نوٹ میں قراردادِ مقاصد کو بنیادی قرار دینے اور ساتھ ہی بنیادی ڈھانچے کے نظریے کی نفی کی تھی اور پارلیمنٹ کو اختیار دیا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے کوئی بھی آئینی ترمیم کر سکتی ہے۔ سید ظفر علی شاہ کیس (پی ایل ڈی 2000ء ایس سی 869؍) میں واضح طور پر یہ بات بتا دی گئی تھی کہ آئین کی نمایاں خصوصیات میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی جن میں عدلیہ کی آزادی، وفاقیت، اسلامی شقوں کے امتزاج کے ساتھ پارلیمانی نظامِ حکومت شامل ہیں۔ اگرچہ ایسے ماہرینِ قانون ہیں جو انِ بنیادی خصوصیات کو چیلنج کرتے ہیں لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جو آئین کی بنیادی چیزوں کو پارلیمنٹ میں ترمیم کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ دلیل دی جاتی ہے کہ آئین کی بنیادی خصوصیات صرف ’’قانون ساز اسمبلی‘‘ ہی تبدیل کر سکتی ہے۔ آئین ساز اسمبلی ایک ایسا ادارہ یا اسمبلی ہے جو مقبول منتخب نمائندوں پر مشتمل ہوتی ہے جس کا کام آئین کا مسودہ تیار اور اسے منظور کرانا ہوتا ہے۔ آئین ساز اسمبلی عموماً مخصوص مقاصد کیلئے تشکیل دی جاتی ہے اور وہ یہ کام مختصر عرصے میں مکمل کر لیتی ہے جس کے بعد یہ اسمبلی تحلیل ہو جاتی ہے یا ا

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More