Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

سندھ:سرکاری گوداموں سے ایک ارب20کروڑ کی گندم غائب ،بوریوں میں مٹی

نیب سکھر کے کندھ کوٹ اور کشمورمیں چھاپے ، گودام سیل کر دئیے ، گندم کو اوپن مارکیٹ میں فروخت کیا گیا،ذمہ افسروں اور اہلکاروں کیخلاف انکوائری شروع اینٹی کرپشن نے 2ہفتے قبل کارروائی کی تو دادو میں 66کروڑ،لانڈھی سے ڈیڑھ ارب کی گندم غائب تھی،کسی کیخلاف کارروائی نہ ہوئی:دنیا کامران خان کیساتھ میں انکشاف
اسلام آباد،لاہور،(خصوصی نیوز رپورٹر،دنیا نیوز) سندھ کے سرکاری گوداموں سے ایک ارب20کروڑ کی گندم غائب ہو گئی،بوریوں میں مٹی بھری تھی۔تفصیل کے مطابق نیب سکھر نے مجسٹریٹ کے ہمراہ کندھ کوٹ اور کشمور سندھ میں گندم کے گوداموں پر چھاپے مارے تو تقریباً ایک ارب 20 کروڑ روپے کی گندم گوداموں میں موجود نہ تھی ،بوریوں میں مٹی ملائی گئی تھی۔ ترجمان نیب کے مطابق نیب سکھر نے مجسٹریٹ کے ہمراہ کند ھ کوٹ اور کشمور سندھ کے گوداموں کو سیل کر کے محکمہ فوڈ کے ذمہ دار افسران و اہلکاروں کے خلاف انکوائری شروع کر دی، نیب حکام کے مطابق کند ھ کوٹ اور کشمور میں گوداموں سے گندم غائب کرنے اور مبینہ طور پر اوپن مارکیٹ میں فروخت کرنے والے افسران و اہلکاروں کا تعین کرکے ان کے خلاف قانو ن کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور ذمہ داروں سے ایک ارب 20 کروڑ روپے کی رقم برآمد کر کے قومی خزانہ میں جمع کرائی جائے گی ۔ ادھر پروگرام دنیا کامران خان کیساتھ میں انکشاف کیا گیا کہ اینٹی کرپشن کراچی کی ٹیم نے گندم کے سرکاری گوداموں میں خورد برد کی اطلاعات پر دو ہفتے قبل ضلع دادو میں گندم مراکز پر چھاپے مارے گئے ۔اس دوران انکشاف ہوا 9سرکاری گوداموں میں ایک لاکھ 80ہزار گندم کی بوریاں غائب تھیں اور صرف 12ہزارموجود تھیں ۔اہلکاروں نے تمام گندم 3400فی بیگ کے حساب سے فلور ملز کو بیچ دیں جو پچھلے سیزن میں کسانوں سے 1300روپے من کے رعایتی نرخ پر خریدی گئی تھیں ۔اینٹی کرپشن حکام کے مطابق محکمہ خوراک سندھ کے افسروں کاطریقہ واردات یہ تھا کہ مقرر کردہ گندم کے نرخ 2700فی بیگ کے حساب سے گندم خرید کر غائب کی گئی بوریوں کی جگہ رکھ دیتے ۔اس طرح انہیں گندم کے ایک بیگ پر 700روپے اور مجموعی طور پر 14کروڑ روپے کا منافع ہوا۔کراچی میں لانڈھی میں بھی ایک گودام پر چھاپہ مارا گیاجہاں گندم کی 2لاکھ 27ہزار بوریاں کم ہونے کا علم ہوا ہے ،اہلکاروں نے بینک گارنٹی یا کسی کاغذی کارروائی کے بغیر من پسند فلور ملز کو یہ گندم اپنے سرکاری ویئر ہائوس سے نکال کر فروخت کردی جس کی قیمت ابھی تک وصول نہیں کی گئی ۔لانڈھی کے گودام میں ہیر پھیر سے ڈیڑھ ارب روپے اور دادو کے مرکز سے کرپشن سے قومی خزانے کو 66کروڑ روپے کا نقصان ہوا ۔گزشتہ روز سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اس بھاری خورد برد کا تذکرہ بھی ہوا لیکن پیپلز پارٹی کے ارکان خاموشی سے اس سکینڈل کے بارے میں سنتے رہے ۔دنیا نیوز کے خصوصی نمائندے اختیار کھوکھر نے بتایا سرکاری اہلکاروں نے لاکھوں بوری گندم سرکاری گوداموں سے خود چرا لی ،یہ سکینڈل محکمہ اینٹی کرپشن سامنے لایا ، دادو کے ڈی ایف سی نے اینٹی کرپشن سے بھی دو ہفتے پہلے محکمہ خوراک کو اس فراڈ کے بارے میں آگاہ کیا تھااس کے بعد یہ معاملہ اینٹی کرپشن کے پاس آیا مگر ابھی تک کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی جبکہ محکمہ اینٹی کرپشن نے رپورٹ دو ہفتے پہلے حکام بالا کو بھیج دی تھی اور ذمہ داروں کیخلاف مقدمہ کی سفارش بھی کی ۔اگلے ہفتے چیف سیکرٹری کی صدارت میں اجلاس ہونے والا ہے اس میں اس بارے فیصلہ کیا جائے گا، اس وقت جو کیسز بن رہے ہیں ان میں چھوٹے افسروں ڈی ایف سی اور فوڈ کنٹرولر کے نام سامنے آرہے ہیں جبکہ یہ بہت بڑا فراڈ ہے اور محکمہ خوراک میں کئی سالوں سے ہورہا ہے ،محکمہ خوراک ہر سال بینکوں سے قرضہ لے کر گندم خریدتا اور فروخت کرتا ہے اور حکومت سندھ پر 100ارب کا قرضہ چڑھ چکا ہے یعنی گندم بیچ دی گئی ہے لیکن 100ارب روپے بھی واپس نہیں آئے ۔یہ چھوٹے ملازمین کے بس کی بات نہیں ، اس میں اہلکاروں کو حکومت سندھ کے بڑوں کی سرپرستی حاصل ہے ، سندھ میں سینکڑوں گودام ہیں اور اطلاعات کے مطابق ان سے گندم کی 10لاکھ بوریاں غائب ہیں، اینٹی کرپشن حکام نے چیف سیکرٹری کو لکھا ہے کہ ضلع نوشہرو فیروز،سکھر ،گھوٹکی اور خیر پور کے گوداموں پر چھاپوں کی اجازت دی جائے ۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More