Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

سابق دور میںمہنگی خریداری ثابت:حکومت نے قطر کو سستی ایل این جی فراہمی پر قائل کر لیا

اسلام آباد (سہیل اقبال بھٹی) توانائی بحران پر قابو اورسستی گیس کیلئے حکومت کو بڑی کامیابی ملی ہے جس کے تحت وفاقی حکومت نے قطر سے مہنگے دام پرایل این جی کی خریداری ثابت کردی ۔ مسلم لیگ ن حکومت کے معاہدے کے باعث قطر کو 4 ارب ڈالر اضافی ادا کرنا پڑیں گے ۔ مسلم لیگ ن کے مقابلے میںپی ٹی آئی حکومت نے قطر کوسستی ترین ایل این جی فراہمی پر قائل کرلیا ۔ قطر سے سستی ایل این جی خریداری سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کیلئے نیب میں بے پناہ مشکلات کا باعث بنے گی ۔ حکومت کے قطر سے مزید400ملین کیوبک فٹ ایل این جی خریداری کیلئے معاملات طے پاگئے جس سے 10سال میں خزانے کو 2.5ارب ڈالر کی بچت ہوگی۔ وزیراعظم سیکرٹریٹ حکام کے مطابق قطر مسلم لیگ ن کی حکومت کے مقابلے میں بہتر شرائط پر ایل این جی فراہم کرنے پر رضامند ہوگیا ، 400ملین کیوبک فٹ گیس خریداری کے 10سالہ نئے معاہدہ پر 11اعشاریہ 5فیصد خام تیل کی قیمتجبکہ 15سالہ نئے معاہدہ پر 11.25فیصد خام تیل کی قیمت کے برابرریٹ کی پیشکش موصول ہوگئی ۔ قطر سے مذاکرات کرنے والی ٹیم نے وزیراعظم عمران خان کو اس بارے میںآگاہ کردیا جبکہ وفاقی کابینہ دیگر ممالک کی پیشکش کا جائزہ لے کر معاہدے کی حتمی منظوری دیگی ۔ دستاویز کے مطابقپاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے بھی ثابت کیا کہ پاکستان2016ئکے معاہدے کے باعث قطر سے ایل این جی کا فی کارگو نجی کمپنیوں کے مقابلے میں 20کرو ڑروپے مہنگا خرید رہا ہے جس کے نتیجے میں ماہانہ 75کروڑ روپے نقصان ہوتا ہے ۔ برینٹ خام تیل کی قیمت میں اضافے کیساتھ قطر سے مہنگی ایل این جی خریدنے کا ماہانہ نقصان مزید بڑھ جائیگا۔پاکستان ایل این جی کمپنی نے عالمی نجی کمپنیوں سے قطر کے مقابلے میں سستی ایل این جی خریدنے کا معاہدہ کیا مگر پنجاب میں آرایل این جی پر چلنے والے 3600میگاواٹ صلاحیت کے حامل پاور پلانٹس فنی خرابی کے باعث بند ہونے کے باعث نجی کمپنیوں سے سستے ایل این جی کے کارگومنسوخ کئے جاتے رہے ۔ مہنگی ایل این جی خریدنے ، سستی ایل این جی کارگو منسوخ کرنے اور ایل این جی ٹرمینل کم صلاحیت پر استعمال کرنے کے باعث گذشتہ سال کے دوران 20ارب روپے سے زائد کا عوام پر بوجھ ڈالا جاچکا ۔ ایم ڈی پی ایل ایل عدنان گیلانی نے عوام اور خزانے پرغیرمنصفانہ بوجھ ختم کرنے کیلئے معاہدے پر نظرثانی کی سفارش کی۔ پاکستان ایل این جی کمپنی نے نجی عالمی کمپنیوں کیساتھ پیپرا رولز کے مطابق بولیاں طلب کرنے کے بعد ایل این جی خریداری کے معاہدے کئے جس کے نتیجے میں قطر پٹرولیم کے مقابلے میں سستی گیس خرید کر پنجابمیں لگنے والے پاور پلانٹس کو فروخت کرنا تھی ۔2ارب 60کروڑ ڈالر سے لگنے والے 3ہزار600میگاواٹ صلاحیت کے حامل پاور پلانٹس میں تکنیکی نقائص کے باعث اربوں ڈالر کا ایل این جی منصوبہ ناکامی کے قریب پہنچ چکا۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More