Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

پنجاب ہائیر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ میں آٹھ ماہ میں نویں سیکریٹری کا تقرر

اسلام آباد (طارق بٹ) پنجاب حکومت کے محض ابتدائی آٹھ میں ہائیر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ (ایچ ای ڈی) میں نویں سیکریٹری کا تقرر کیا گیا ہے جس سے ادارے کے بیوروکریٹک چیفس کے تیزی سے تبادلوں پر روشنی پڑتی ہے۔ ایچ ای ڈی سیکریٹری پنجاب میں 400 کالجز اور 100 سے زائد پبلک اور نجی سیکٹر کی جامعات کی دیکھ بھال کرتا ہے اور پنجاب کے انتظامی نظام میں اہم ترین پوزیشن تصور کیا جاتا ہے۔ سیکنڈری ایجوکیشن کے تمام 9 بورڈز جو انٹرمیڈیٹ اور میٹریکیولیشن کے امتحانات منعقدک کراتے ہیں وہ بھی ایچ ای ڈی سیکر یٹر ی کی ذمہ داری ہوتے ہیں۔ صوبائی بجٹ کی تیا ریو ںکے دوران فنانس سیکریٹری ڈاکٹر راحیل صدیقی کو عہدے سے ہٹا کر ایچ ای ڈی سیکریٹری بنادیا گیا تھا۔ محض دو ہفتے قبل بڑی بیورو کریٹک تنظیم نو میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے پرنسپل سیکریٹری کے عہدے سے تبادلہ کرنے کے بعد انہیں فنانس سیکریٹری نامزد کردیا گیا۔ ایچ ای ڈی سیکریٹری مومن آغا کو انفارمیشن اور کلچر ڈپارٹمنٹ کے بیوروکریٹک انچارج آفیسر کی حیثیت تقرری کی گئی ہے، یہ عہدہ ان کے پاس دو ہفتے قبل ایچ ای ڈی تبادلہ کیا جانے سے پہلے تھا۔ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ (ایس اینڈ جی اے ڈی) کے سیکریٹری عبد اللہ سنبل فنانس سیکریٹری مقرر کئے گئے ہیں۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق وہریگولر امیدوار کو عہدہ دئیے جانے تک اپنی ذمہ داریوں کے علاوہ ایس اینڈ جی اے ڈی کے عہدے کا ایڈیشنل چارج بھی رکھیں گے۔ میانوالی کے عبد اللہ سنبل کا تعلق ڈی ایم جی سے ہے اور وہ شہباز شریف کے پرنسپل اور کوآرڈینیشن سیکریٹری رہ چکے ہیں۔ انہوں نے پچھلی حکومت کے دوران تین سال تک لاہور کمشنر کی حیثیت سے اہم ترین فیلڈ اسائنمنٹ بھی رکھا۔ بزدار انتظامیہ کے آنے کے بعد سے زیادہ سے زیادہ اوسط ایک ماہ تک اس عہدے پر کام کرنے والے ایچ ای ڈی سیکریٹریز میں خالد سلیم، عمران سکندر بلوچ، سارہ وانی، ساجد ڈہل، کیپٹن (ر) محمد محمود (صرف ایک روز)، مومن آغا (دو ماہ سے کم) اور شوکت علی شامل ہیں۔ شہباز شریف کے دور میں آغا نے انفارمیشن سیکریٹری کی حیثیت سے تقریباً دو سال تک خدمات سرانجام دیں۔ نوٹیفکیشن میں ایک بار پھر ایچ ای ڈی سیکریٹری کے تیزی سے تبادلے کی وجوہات نہیں بتائی گئیں۔ انیتا تراب کیس میں سپریم کورٹ کے مشہور فیصلے کے مطابق ایک سیکریٹری کیلئے عام مدت یا میعاد 2 سے 3 سال ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ قبل از وقت تبادلہ کی وجوہات ہونی چاہئیںناکہ یہ تبادلہ حکومت اور وزراء کی خواہشات کے تحت ہو۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے حال ہی میں فیصلہ ہ دیا تھا کہ تعلیم حکومت کی ترجیح نہیں، لہٰذا نجی شعبے کی ضرورت ہے۔ پنجاب حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بیوروکریٹک تنظیم نو کا حکم وزیر اعلیٰ پنجاب نے دیا اور یہ ان کا استحقاق تھا کہ وہ ایسے افسران کا حکم ہیں دیں جنہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ایجنڈے کے مطابق کام کریں گے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اس تیزی سے کی جانے والی تبدیلیوں سے قانون سازوں کا کوئی تعلق نہیں۔ تاہم پبلک سیکٹر اور ایس ای ڈی اور ایچ ای ڈی میں بیوروکریٹک تنظیم نو کے حوالے سے معلومات رکھنے والے ایک سینئر عہدیدار نے دی نیوز کو بتایا کہ یہ تبادلے زیادہ تر قانون سازوں کے مطالبات پر کئے گئے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More