Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

ڈاکٹررضاباقرکی زیرِنگرانی مصرکی معیشت بہترہوئی

لاہور(صابرشاہ)سائپرس، گھانا، یونان، جمیکا، پرتگال، فلپائن،مصر، یوکرائن، بلغاریہ اوررومانیہ جیسے بحران سے متاثرہ مختلف ممالک میں قرض اور معاشی پالیساں بنانے کےبعد سٹیٹ بینک آف پاکستان کےنئے تعینات ہونےوالے گورنر ڈاکٹررضاباقر کراچی کیلئے روانہ ہوچکےہیں تاکہ اس بات کویقینی بنایاجائےکہ ملک بہترمعاشی ریگولیشنزاورکریڈٹ سسٹمز کے ذریعے معاشی استحکام حاصل کرسکے۔ ڈاکٹر باقر اُس وقت مصرکیلئے بطورآئی ایم ایف کےکنٹری ریپریزنٹیٹوخدمات سرانجام دے رہے ہیں،جب وہاں آئی ایم ایف نے نومبر2016 کےدوران 12ارب ڈالرتک ایکسٹنڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) کی صورت میں معاشی امدادمنظوری دی۔ ’’جنگ گروپ اورجیوٹیلی ویژن نیٹورک‘‘ کی جانب سےکی گئی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہےکہ آئی ایم ایف نےمصر کو یہ امداد اس لیے دی تاکہ ترقی اورنوکریاں پیداہو نے کے علاوہ ملک میں میکرواکنامک استحکام بحال ہوسکے اور فار ن ایکسچینج مارکیٹس کی کارکردگی بہترکرکےمستحکم ترقی پرواپس آسکے، بجٹ خسارہ کم ہوسکےاورسرکاری قرضے محدودہوں۔ معاشرےکےنچلےطبقات کوتحفظ دینابھی مصرکامقصدتھا۔ تحقیق سےپتہ لگتاہےکہ مصرکانامینل جی ڈی پی 249.559 ارب ڈالرہےجبکہ پاکستان کا 312.2ارب ڈالر ہے، مصری معیشت میں 311لاکھ 50ہزارکی لیبرفورس شامل ہے جو 610لاکھ40ہزارکی
پاکستانی لیبر فورس کے مقابلے میں چھوٹی ہے۔ مصرمیں بےروزگاری کی شرح9.9فیصد ہے جو پاکستان کی 5.7فیصد سے زیادہ ہے، اگرچہ ان اعدادوشمار پریقین کرنا مشکل ہے کہ کتنےلوگ چھوٹی نوکریاں تلاش کرنے کیلئےپاکستان میں دربدر ہورہے ہیں، جبکہ پاکستانی معاشی ماہرین امیدکےخلاف امید کررہے ہیں کہ رواں سال جون میں ملکی برآمدات 27ارب ڈالر تک ہوجائیں گی۔ مصرکے کیس میں مجموعی بیرونی قرضے 77.47ارب ڈالر ہیں جبکہ پاکستان میں بیرونی قرضےستمبر2018کے اختتام تک ہی 96.7ارب ڈالر تک بڑھ چکےتھے اور ہر گزرتے منٹ کےساتھ ان میں اضافہ ہورہاہےکیونکہ روپیہ اور ڈالر میں خیلج بڑھ رہی ہے۔ اب ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کے ساتھ پارٹنرشپ میں پاکستانی معیشت کو بہترکرنے کا کام رضاباقرپر بھی ہے لیکن جو کچھ مصرمیں حاصل کیاگیا وہ پاکستان میں حاصل کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ اب دیکھتے ہیں کہ یہ 73سالہ عالمی ادارہ، جس کے اراکین 189 ممالک ہیں، اس نے کس طرح سے مستحکم معیشت اور معاشی استحکام کیلئےآئی ایم ایم کے کنٹری ریپریزنٹیٹو ڈاکٹر باقر رضاکی مدت کےدوران مصرکی مدد کی: آئی ایم ایف کے ایگزیکٹوبورڈ نے 13جولائی 2017کو پہلا ریویو منظور کیا۔ دوسرا ریویو 20دسمبر2017،تیسرا 29جون 2019 کو اور چوتھا ریویو 4فروری 2019کومنظور کیاتھا۔ دنیا بھرمیں 283ارب ڈالر وقف کرنے کےبعد اور اپنے پاس 661ڈالر کےکوٹہ وسائل رکھنےوالے ادارےآئی ایم ایف نےڈاکٹررضا باقرکی نگرانی میں مصرمیں کئی اصلاحات کیں تاکہ صحت، تعلیم اورانفراسٹکچرمیں سرمایہ کاری کیلئےجگہ پیداکی جاسکے۔ آئی ایم ایف کاخیال تھا کہ اس سرمایہ کاری سےمستحکم ترقی، نوکریوں کی تخلیق اور مصرکی مڈل کلاس اور غریب طبقےکی قوتِ خرید بڑھے گی۔ تیسرے ریویو کے وقت اتھارٹیز نےاپنےتوانائی کے شعبے می اصلاحات کےحصے کےطورپرپٹرولیم پیداوار کیلئے انڈیکسیشن نافذ کرنےکااشارہ دیا، اور اس کاوقت ان کی طرف سے ہی طے کیاجاناتھا۔ چوتھےریویو کے مکمل کےبعد 2ارب ڈالر دینے کی اجازت دی گئی، جس سے اس پروگرام کے تحت اب تک کل 10ارب ڈالر مصر کودیےگئے۔ پانچویں اور آخری ریویو سے آئی ایم ایف پروگرام کےتحت کل ادائیگی تقریباً12ارب ڈالر ہوجا ئےگی۔ آئی ایم ایف کی 6اپریل 2019 کی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیاگیاہے: نومبر2016میں اتھارٹیزکےاصلاحاتی پروگرام کے آغاز کے بعد سےمصرکی میکرواکنامک صورتحال کافی حدتک بہترہوچکی ہے۔ فارن ایکسچینج مارکیٹ کی لبرلائزیشن، محتاط مالی پالیسی، اور معاشی استحکام سےمیکرواکنامک ماحول کو مستحکم کرنے میں مدد ملی۔ ترقی کی رفتار تیز ہوگئی، بیرونی اور اندرونی قرضے کم ہوئے، غیرملکی زرمبادلہ کےذخائر بڑھ گئے اور عوامی قرضے، افراطِ زر اور بےروزگاری کی شرح کم ہوگئی۔ معاشی بچت بھی کی گئی تاکہ سماجی تحفظ بڑھے اور غریبوں پر بوجھ کم ہوسکے۔ مزیدبرآں، نجی شعبے کو تحفظ دینےکیلئےسٹرکچرل ریفارمزجن سےترقی اورنوکریاں تخلیق ہوں، وہ بھی کیےگئے۔ باقی کاایکسٹنڈڈ فنڈ فیسیلٹی پراگرام میکرواکنامک کو مستحکم بنانےپرمرکوز ہے۔‘‘ اکتوبر2018 میں ایک مقامی میڈیا ہائوس’’ دی ایجپٹ انڈیپنڈنٹ‘‘ نے لکھا: ’’آئی ایم ایف کو امید ہے کہ مصر کی معیشت 2018میں 5.3فیصد ترقی کرےگی اور 2019میں 5.5فیصد ترقی کرےگی جو 2017میں 4.2فیصد زیادہ ہے۔ آئی ایم ایف نے پیش گوئی کی کہ مصری معیشت کی ترقی کی شرح 2023تک مسلسل 6فیصدتک بڑھے گی۔‘‘ رواں سال اوسطً افراطِ زر کی شرح بھی گزشتہ سال 22.5 فیصد کے مقابلے میں20.9فیصدتک کم ہونےکی امید ہے اور اگلے سال یہ 14فیصد تک کم ہوجائےگا اور 2023میں 7فیصد ہوگا۔ رپورٹ میں امید ظاہر کی گئی کہ رواں سال بےروزگاری کی شرح 9.9فیصد کم ہوگی۔‘‘ مصرنے آئی ایم ایف کی مددسےمزیدکیاحاصل کیا؟ آئی ایم ایف کی ویب سائٹ پر کہاگیاہے: ’’مصری انتظامیہ کےمعاشی اصلاحات کےپراگرام نےمستحکم ترقی کی جومیکرواکنامک استحکام اورترقی کی بحالی سےواضح ہے۔ سیاحت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ترسیلات بڑھ چکی ہیں اور نوکریوں کیلئے اہم شعبہ نان پٹرولیم مینوفیکچرنگ وہ بھی بحالی کی جانب بڑھ رہاہے۔ انتظامیہ نے ویلیوایڈڈٹیکس لگادیاہے جس سے مارکیٹ فورسز کوایکسچینج ریٹ طے کرنے کی اجازت ملی اور غیراہم فیول اور بجلی کی سبسڈی کم ہوگئی۔ مزیدبرآں، کاروبا ر ی ماحول بہترکرنےکیلئےانھوں نے نیا صنعتی لائسنسنگ قانون، سرمایہ کاری کاقانون، کمپنیزلاءاور دیوالیہ کاقانون منظورکیا۔‘‘ آئی ایم ایف کی ویب سائٹ پر مزید لکھا ہے:’’ اسی دوران غریبوں کو تحفظ دینے کیلئے مختلف اقدامات کیےگئے۔ انتظامیہ صنعتی اراضی تک رسائی اور دستیابی کو بہترکرنے کیلئے کام کررہی ہےجو نجی شعبے کی ترقی کیلئے اہم ہے۔ پبلک پروکیورمنٹ کی اصلاحات بڑھ رہی ہیں اور انتظامیہ مصری کمپیٹیشن اتھارٹی پر قانون تیارکررہی ہےتاکہ نئے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی ہوسکے۔ ان ریفار مز سے بہتراور مزید ترقی اور نوکریوں کی تخلیق میں مدد ملنی چاہیئے

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More