Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

SECP قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو مقدمات نہ بھیجے، پالیسی بورڈ

اسلام آباد (اسرار خان) سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج (ایس ای سی پی) پالیسی بورڈ نے ایس ای سی پی کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مقدمات بھیجنے اور ایجنسیوں کو اپنا عملہ دینے کا عمل روکنے کو کہہ دیا، ساتھ ہی ساتھ اسے مقدمات سے خود نمٹنے کی ہدایت کردی ہے جیساکہ اسے قوانین کے تحت مطلوبہ اختیارات حاصل ہیں۔ پالیسی بورڈ کا اجلاس چیئرمین پروفیسر خالد مرزا کی زیر صدارت ہوا جنہوں نے ایس ای سی پی کو ہدایت دی کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کئے گئے تمام مقدمات واپس لے لیے جائیں ۔ پالیسی بورڈ نے مزید ہدایت دی کہ یہ عمل فوری طور پر کیا جائے اور کمیشن کی جانب سے کارروائی کرنے کی قانونی مجبوری پر مبنی غیر بدل پذیر وجہ کی غیر موجودگی میں اور پالیسی بورڈ اور کمیشن کی جانب سے پہلے کلیئرنس لئے بغیر کوئی بھی مقدمہ کسی بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے کے حوالے نہ کیا جائے۔ یہ بات مشاہدے میں آئی تھی کہ گزشتہ چند سالوں میں قوانین کے تحت مطلوبہ اختیارات حاصل ہونے کے باوجود کمیشن مقدمات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کرتا رہا ہے جن سے اسے خود ہی قانون کے مطابق نمٹنا چاہئے تھا۔ مزید یہ کہ بورڈ نے ایس ای سی پی عملے کے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں عارضی تبادلے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا جس سے ایس ای سی پی کی اندرونی صلاحیت اور کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی۔ بورڈ نے ہدایت دی کہ ایسے عملے کو واپس کمیشن میں بھیجا جائے جب تک مخصوص حالات میں ایسا نہ کرنے کی کوئی مضبوط وجہ ہو اور عملے کیلئے ایس ای سی پی سے کوئی بھی مستقبل میں کی جانے والی درخواست کو بورڈ سے کلیئر کیا جانا چاہئے۔ بورڈ نے انیشیل پبلک آفرنگز (آئی پی اوز) کیلئے ریگولیٹری نظام کا جائزہ لیا اور پبلک آفرنگ ریگولیٹری فریم ورک میں متعارف کرائی گئی اصلاحات کو سراہا۔ کمیشن نے پالیسی بورڈ کو آگاہ کیا کہ کیپٹل مارکیٹس کے ذریعے کیپٹل فارمیشن کو فروغ دینے اور کاروبار میں اضافے اور توسیع کیلئے طویل مدتی فنڈنگ کو دستیاب بنانے کیلئے ایک پروپوزل پہلے ہی پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) بھیجا جاچکا ہے۔ بورڈ کی توجہ اس جانب دلائی گئی کہ چھ بروکرز کے لائسنسز کی اس سال تجدید نہیں کی گئی۔ ان کیسز میں سے 2 پر گفتگو کی گئی جس سے بورڈ قائل نہیں ہوا۔ پالیسی بورڈ نے پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج کی پیشرفت کا بھی جائزہ لیا اور مشاہدہ کیا کہ ایکسچینج کو اجناس کے بازار مستقبلات کو مزید ترقی دینے پر توجہ دینا چاہئے۔ پروفیسر خالد مرزا کا کہنا تھا کہ زرعی اجناس میں بازار مستقبلا ت کی صلاحیت ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چیئرمین ایس ای سی پی کو حکومت کے زیر کنٹرول تین انشورنس کمپنیوں کے سربراہان سے اس بات کا تعین کرنے کیلئے ملاقات کرنی چاہئے کہ انشورنس انڈسٹری کو بری طرح متاثر کئے بغیر کس طرح سے معقول اور داشمندانہ بنیاد پر ان کمپنیوں کی مدد کی جاسکتی ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More