Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

بجٹ خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر 28کھرب تک پہنچنے کا امکان

اسلام آباد (مہتاب حیدر ) پاکستان کا مالی عدم توازن مزید بدتر ہوگیا ، رواں برس جون کے آخر تک بجٹ خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح 28کھرب روپے سے زائد تک پہنچ سکتا ہے۔ بجٹ خسارے میں مزید اضافے کی ایک بڑی وجہ ایف بی آرکے ریونیو میں450ارب روپے کی کمی ہے جو جی ڈی پی کا 1.3فیصد بنتا ہے ۔ ڈسکائونٹ ریٹس میں اضافے اور روایتی حریف بھارت سے کشیدگی کے باعث دفاعی اخراجات میں اضافے اور قرضوں بڑھتی ہوئی ضرورت سے بجٹ خسارہ بڑھ رہا ہے ۔ بجٹ خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کی صورت میں آئی ایم ایف نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ آئندہ بجٹ میں مالی توازن برقرار رکھنے کیلئے 730ارب روپے کے مزید اضافی ٹیکس عائد کرنے کیلئے اقدامات کرے جو جی ڈی پی کا 1.7فیصد ہے۔ آئی ایم ایف کے پاس جانے میں تاخیر کی وجہ سےمشکلات میں گھری حکومت کے پاس اب محدود آپشن ہے اور اگر حکومت اقتدار میں آنے کے فوراً بعد ہی آئی ایم ایف کے پاس چلی جاتی تو اسلام آباد کو اتنی بڑی تعداد میں بجٹ خسارے کا سامنا کرنا نہ پڑتا۔ اب حکومت آئی ایم ایف ٹیم کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ ہمارے لئے ریونیو کا ہدف5250ارب روپے رکھا جائے جبکہ آئی ایم ایف کے اندازوں کے مطابق ایف بی آر 5590ارب روپے جمع کرنے کی استعداد رکھتی ہے ۔ ایف بی آر کے مطابق رواں مالی سال وہ 4050ارب روپے یا جی ڈی پی کا 10.7فیصد ریونیو جمع کرسکتی ہے ۔ تاہم آزاد معاشی ماہرین کے مطابق اگر کوئی ایمنسٹی اسکیم متعارف نہ کروائی گئی تو ایف بی آر 3950ارب روپے تک بھی جمع نہیں کرسکتی۔ ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ بجٹ خسارہ 600ارب روپے سے زائد تک بڑھ سکتا ہے اور پی ٹی آئی حکومت کے رواں مالی سال جون کے آخر تک 28کھرب روپے تک جاسکتا ہے جبکہ گزشتہ برس 2017ء ، 2018ء کے آخری مالی سال میں ن لیگ دور حکومت کے دوران بجٹ خسارہ 22کھرب روپے تک تھا۔ سابق وزیرخزانہ اور ماہر معاشیات ڈاکٹر حفیظ اے پاشا نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ رواں مالی سال کے آخر یعنی 30جون 2019تک بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 7.5یا 7.6فیصد تک پہنچ سکتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کا شارٹ فال 450ارب روپے یا جی ڈی پی کا 1.3فیصد تک ہوسکتا ہے اور مالی اخراجات میں اضافے کے باعث بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 7.5فیصد تک پہنچ سکتا ہے جبکہ گزشتہ مالی ال کے دوران یہ جی ڈی پی کا 6.6فیصد تھا ۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More