Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

داتا دربار خود کش حملہ،ایک سہولت کار گرفتار،تعلق طالبان، را، این ڈی ایس سے نکلا

لاہور ( رانا محمد عظیم) داتا دربار دھماکہ کے حوالے سے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ لاہور دھماکہ کے خود کش حملہ آور کے سہولت کار کے تانے بانے افغانستا ن میں موجود طالبان، این ڈی ایس اور را کے گٹھ جوڑ سے مل گئے ہیں۔ خود کش حملہ آور کے سہولت کاروں کو باقاعدہ مانیٹر کیا جا رہا تھا اور ٹارگٹ پورا ہونے کے چند منٹ بعد پاکستانی میڈیا سے پہلے افغانستان اور بھارتی میڈیا پر خود کش حملہ کی نہ صرف خبر چلی بلکہ حساس ادارے کے اہلکاروں کی شہادت کے حوالے سے بھی بھارت اور افغانسات کے میڈیا پر مسلسل خبریں چلتی رہیں۔ با وثوق ذرائع کے مطابق حملہ سے پہلے اور بعد میں تین ٹیلی فون کالز بھی ریکارڈ کی گئی ہیں۔کنڑ سے کی گئی کالیں افغان، پشتو، اور ایک ٹوٹی پھوٹی اردو میں ہے ۔تینوں کالز میں جومشترکہ چیز ریکارڈ کی گئی وہ ٹارگٹ پورا کرنے کے الفاظ ہیں ۔ یہ کالز تین مختلف افراد کو کی گئیں جو اس وقت داتا دربار کے ارد گرد موجود تھے ۔ انوسٹی گیشن میں یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ داتا دربار پر خودکش حملہ کرنے والی تنظیم اور گروہ کا تعلق مال روڈ اور گلشن اقبال خود کش حملہ کرنے والے گروہ سے ہے اور یہ سب ایک ہی تنظیم کے افراد ہیں جو کا لعدم طالبان کی تنظیم ہے اور اس کو باقاعدہ این ڈی ایس اور را کی مکمل سرپرستی حاصل ہے ۔اس کا لعدم تنظیم نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی جبکہ ٹویٹ اور سوشل میڈیا پر پیغام بھی افغانستان سے ہی جاری کیا گیا تھا۔ پیغام پر تاریخ آٹھ مئی تھی مگر اسلامی تاریخ تین رمضان تھی اور گزشتہ روز افغانستان میں تین رمضان المبارک تھا۔خود کش حملہ آور کو چند روز قبل لاہور پہنچاکر داتا دربار کے قریبی علاقہ میں رکھا گیا تھا۔اسے کچھ دیر پہلے ایک سہولت کار لیکر آیا اور سامنے کی سڑک پر کھڑے ہو کر داتا دربار کے دو نمبر گیٹ کیساتھ والی گلی میں کھڑے شخص کی جانب اشارہ کرکے خود کش حملہ آور کو اس کے پاس بھیجا اور اس سے ہدایت لینے کا کہا۔ خود کش حملہ آور اس دوسرے سہولت کار کے پاس پہنچا جس نے اسے ٹارگٹ کے حوالے سے بتایا جس پر فوری عمل کیا گیا۔ با وثوق ذرائع کے مطابق ایک سہولت کار گرفتار ہو چکا اور اس کے انکشافات سے بھی یہ بات سامنے آئی کہ یہ خود کش حملہ کس جگہ سے مانیٹر کیا جا رہا تھا اور اس کے پیچھے کون تھا ۔ لا ہو ر (میاں رؤف) سا نحہ داتا دربا ر کے فوری بعد ہی قا نو ن نا فذ کر نے وا لے اداروں نے ایک انتہا ئی مشکو ک افغا ن با شندے کو بھی داتا دربا ر کی حدود سے حرا ست میں لیا جسکے مو با ئل فو ن پر ان کمنگ اور آؤٹ گو ئنگ کا لز انتہا ئی مشکو ک ہو نے پر اسے ٹریس کیا گیا ۔ اہم شواہد بھی ملے ہیں جس میں گرفتار با شندے کو خودکش حملہ آور کے ساتھ دھما کہ سے قبل دیکھا گیا۔ ذرا ئع کے مطا بق گرفتار کئے گئے با شندے کا نا م صیغہ راز رکھا جا رہا ہے اور شبہ ہے کہ خودکش حملہ آ ور کا سہو لت کا ر ہو سکتا ہے جس سے نا معلو م مقا م پر تفتیش کی جا رہی ہے ۔ داتا دربا ر کے علاقے میں 16ہوٹل اور 6سرائے ہیں جو مقامی پولیس کو مبینہ منتھلی دیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی چیکنگ یا سرچ آپریشن کرنے کے بجائے سب اچھا کی رپورٹ حکام کو بھجوا دی جا تی ہے ۔انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق دہشتگردوں نے داتا دربار کے گرد ہوٹل یا سرائے میں رہ کر ٹارگٹ کی مانیٹرنگ کی؟ اورسخت سیکورٹی کے باعث انہوں نے گیٹ نمبر 2پر اہلکاروں کی تعداد اور وقت کا تعین کر کے خودکش حملہ کرایا ؟ان تما م تفتیشی سوالوں کے جوابات کی تلاش کیلئے گلیوں اور سڑکوں پر نصب کیمروں کی چیکنگ شروع کر دی گئی۔سہولت کاروں اورمنصوبہ سازوں کا تعین کر نے کیلئے جیوفینسنگ کا عمل بھی جاری ہے ۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More