Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

موو منٹ سے لگتا ہے حملہ آور کو نشہ آور انجکشن لگایا گیا تھا

لاہور(جوادآراعوان) ٹاپ انٹیلی جنس ذرائع نے داتا دربار خودکش حملے کی ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے روزنامہ 92نیوز کو بتایا کہ حملہ آور کو کسی بڑے دہشتگرد گروپ کی سپورٹ حاصل تھی، کالعدم تنظیم جس نے داتا دربار دہشتگرد ی کی ذمہ داری قبول کی ہے اس نوعیت کے حملے کی اہلیت نہیں رکھتی ،یہ گروپ کالعدم جماعت کا سپلنٹر گروپ ہے جو ٹی ٹی پی میں سے علیحدہ ہوا تھا اور انکا کمانڈر عمر خالد مہمند عرف خراسانی تھا ،خراسانی ایک ڈرون حملے میں مارا جا چکا ہے ،مکرم خان مہمند نے عمر خالد سے معاملات بگڑنے پر افغان صوبہ ننگرہار میں کچھ عرصہ پہلے نئے نام سے نیا دہشتگرد گروپ تشکیل دیا تھا، اسکا اہم کمانڈر جہاد یار محسود افغان صوبہ ننگرہار کے ساتھ پاکستان کی سرحد پر ایک انسداد دہشتگردی کاروائی میں ہلاک کر دیا گیا ،اس گروپ میں مسلم یار،حاجی رشید،عمران اورکزئی،قاری اسماعیل آفریدی اور عزیز یوسفزئی شامل ہیں۔اس کالعدم تنظیم کے تانے بانے بھی را اور افغان این ڈی ایس سے جا ملتے ہیں جبکہ افغان سرزمین سے آپریٹ کرنے والی دیگر پاکستان مخالف انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی ان گروپس سے رابطے رکھتی ہیں۔صوبہ ننگرہار،کنڑ،پکتیا،قندھار اور نورستان میں مختلف دہشتگرد گروپس اور غیر ملکی فائٹرز کی موو منٹ کئی مرتبہ دیکھی جا چکی ہے ۔حملہ آور کی تصویر سے اندازہ لگانا ذرامشکل ہے کہ وہ کس علاقے کا تھا ،لیکن محتاط اندازے سے اسکے چہرے کے نقش پاکستان کے قبائلی علاقے کے بھی لگتے ہیں اور افغان باشندہ بھی ہو سکتا ہے ، خود کش حملہ آور کی موومنٹ سے یہ لگتا ہے کہ اسے حملے سے کچھ وقت پہلے نشہ آور انجکشن لگایا گیا ہے ،تا کہ وہ ٹارگٹ پر دھماکہ کرتے وقت بلکل نہ چونکے ۔خود کش بمبار کو ٹارگٹ پر لانچ کرنے کے لئے نشہ آور انجکشن کی تکنیک استعمال کی جاتی ہے ،ابتدائی تحقیقات کے مطابق انٹیلی جنس ایجنسیوں کا اندازہ ہے کہ خود کش حملہ آور کو بلوچستان کے راستے پنجاب میں داخل کیا گیا اور اسے افغان صوبہ قندھار سے پاکستان میں داخل کیا گیا۔ننگر ہار اور کنڑ کے ساتھ فینسنگ اور واچ پوسٹس بڑھنے کی وجہ سے ان علاقوں سے دہشتگرد رسک نہیں لیتے ،پوٹینشل خودکش بمبار بہت کم ہوتے ہیں اس لئے دہشتگرد گروپ اسکو ٹارگٹ تک محفوظ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔اس بارے میں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کسی حتمی نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے ،ٹاپ انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا تھا کہ لاہور میں خود کش بمبار کے ساتھ ایک سے زائد سلیپر سیلز جڑے نظر آتے ہیں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More