Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

سنگدل دہشتگردمسلسل صوفی بزرگوں کےمزارات کو نشانہ بنارہے ہیں 

لاہور(صابرشاہ) ہزاروں مریدین جو900سال سےحضرت ابوالحسن علی بن عثمان علی ہجویری المعروف داتاگنج بخش کے مزار پر تقریباًروزانہ کی بنیادپرخراجِ عقیدت پیش کررہےہیں، ان کےمضبوط ارادہ کمزورکر نےکیلئےشدت پسند عناصر نے عالمی طورپرعزت کیے جانے والےصوفی بزرگ کےمزارپرایک بارپھرلاہور میں بدھ کو حملہ کیا اوروہ بھی انتہائی آسانی سے، حملے میں 10لوگ مارے گئے، اس کےعلاوہ سیکڑوں زخمی بھی ہوئے۔ لہذا حملےسےیہ بالکل واضح ہوگیا ہےکہ ریاست کی جانب سےمسلسل انسدادِ دہشتگردی کےآپریشنزکےباوجودبےلگام تنظیمیں تاحال قومی سلامتی کیلئےخطرہ ہیں۔ جولائی 2010 میں تقریباً نوسال قبل حضرت داتا گنج بخش کےمزارپردو خودکش حملہ آواروں نے حملہ کیا تھا،2010کےحملےمیں کم ازکم 50 افرادجاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئےتھے۔ واضح طورپر جذبات سےمتاثرہوکریہ ظالم دہشتگرد تقریباً14  سالوں سےصوفی بزرگوں کےمزارات پرملک بھر میں مسلسل حملےکررہےہیں۔ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ اِن نفرت کے تاجروں نےگزشتہ ایک دہائی میں ملک بھر میں تقریباًتین درجن مزارات کو نشانہ بنایا ہے، یہ مذہب کی مختلف تشریحات کو نافذکرنا چاہتے ہیں، جس کے نتیجے میں اب تک ہزاروں بےگناہ افراد مارے جا چکےہیں۔ سنٹرفاراسلامک ریسرچ کولیبوریشن اینڈ لرننگ کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق 2005سے2017کےدرمیان صوفی بزرگوں کے مزارات پرکیےگئےدہشتگردوں کے حملوں میں 200سے زائد افرادمارے گئے اور تقریباً 600سےزائدزخمی ہوئے۔ دیہاتوں میں ایک کمرے پر مبنی مزارات سےاہم شہروں میں بڑےکمپلیکسزتک، لاکھوں لوگ ہرسال صوفی بزرگوں کے مزارات پر آتے ہیں۔ گزشتہ14سالوں کےدوران پاکستان میں صوفی بزرگوں کے مزارات پر ہوئے حملوں کی مختصر تاریخ: ’’جنگ اورجیوٹیلی ویژن نیٹورک‘‘ کی جانب سے کی گئی تحقیق میں انشکاف ہوتاہےکہ کسی بھی مزار پرپہلا رپورٹ شدہ حملہ 19مارچ2005کوہواجب بلوچستان کےشہر جھل مگسی کےقصبےفتح پورمیں پیرسیدراخیل شاہ کے مزار کونشانہ بنایاگیا اور اس میں 46افرادجاں بحق ہوئے۔ 27مئی 2005کو اسلام آباد کےگائوں نورپورمیں بری امام کے مزار پر ہوئےطاقتوردھماکےمیں 2درجن افرادجاں بحق اور سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ سیکیورٹی گارڈزاور عینی شاہدین نےبتایاکہ مزار میں ایک درمیانے قد کاداڑھی والاور سیاہ رنگت والاشخص سٹیج تک آیا اور خود کو دھماکے سے اڑالیا۔ مقامی مجسٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس نوٹ میں کہاگیا:’’جب حضرت بری امام کے مزارمیں مجلس عزا جاری تھی کہ ایک انجان شخص اچانک مزارکےاحاطے میں داخل ہوا،سپیکرچھیننےکی کوشش کی۔واقعےکےفوری بعدوہاں موجود ہجوم پریشان ہوگیا اوروہاں موجودپولیس اہلکاروں پرپتھربرسانے شروع کردیئے۔ 18دسمبر2007کوگرینڈ ٹرنک روڈ پرموجود عبدالشکورملنگ باباکےمزارحملہ ہوا۔ مارچ 2008کو پشاورمیں نواح میں حضرت ابوسعیدبابا کے 4سوسال پرانے مزارپرحملہ ہوا، حملے میں 10دیہاتی مارے گئے۔ 5مارچ2009کو17ویں صدی کے مشہور پشتوشاعر رحمان باباکےمزارپرحملہ ہوا۔ اگرچہ رحمان بابا کےمزارپرہوئے حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن اس سے مزارکی حرمت پرایک ناقابلِ یقین نشان پڑگیا۔ رحمان باباحملےکےایک روز بعد بہادرباباکےمزارکو میزائلوں سے نشانہ بنایاگیا۔ رحمان باباکے مزارپر حملے کے بعد سے ، ہنگومیں بہت سےصوفی بزرگوں کےمزارات، نوشہرہ اور بونیرمیں حملے ہوئے، انھیں جلایاگیا یا بند کردیاگیا۔ اسی دوران مساجد پرہوئے حملوں میں سیکڑوں کی تعدادمیں افراد جاں بحق ہوئے۔ کراچی میں اکتوبر2010کو عبداللہ شاہ غازی کے مزارپرہوئےحملےمیں 9افرادمارےگئے۔ پاکپتن میں 12ویں کےصوفی بزرگ بابافریدشکرگنج کے مزار پر حملہ ہوا، وہ بھی اکتوبر2010میں ہواتھا، اس میں ساتھ لوگ مارے گئے۔ 3اپریل 2011کو ڈیرہ غازی خان میں13ویں صدی کے صوفی بزرگ احمدسلطان المعروف سخی سرورکےمزارپرہوئےحملے میں 52افراد مارےگئے۔ رواں سال یکم مارچ کوسپریم کورٹ نےڈیرہ غازی خان میں سخی سرورکےمزارپرایک مبینہ خود کش حملہ آورکوایک ٹرائل کورٹ کی جانب سےدی گئی عمرقیدکی سزاکوبرقراررکھا۔ ملزم بہرام عرف صوفی بابا کو52بارسزائے موت اور 73 بار عمر قیدکی سزاسنائی گئی۔ اس پر حملے کیلئے خودکش بم تیار کرنےکاالزام ہے۔ تاہم سپریم کورٹ نے اس سزاکو کالعدم قراردیاکیونکہ استغاثہ کوئی زیادہ ثبوت فراہم نہ کرسکا۔ دوسرےملزم عمر فدائی کو ٹرائل کورٹ نے125بار عمرقید کی سزاسنائی تھی۔ ملکی اعلیٰ عدالت نے سزاکےخلاف اپیل کو مستردکردیا۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کس طرح سے کسی کو ایک زندگی میں 125بارعمرقیدکی سزادی جاسکتی ہے۔ انھوں نے تمام سزائوں کو ایک ہی بار دینےکاحکم دیا۔ خیبرایجنسی میں صوفی بزرگ شیخ نساءبابا شیخ بہادر بابا کے مزارات پر 11دسمبر2012کوحملے ہوئے۔ 25فروری 2013کو شکارپورکےگائوں مری میں غلام شاہ غازی کے مزارپرحملہ ہوا، جس میں چار لوگ مارے گئے اور 27 سےزائدزخمی ہوئے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More