Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

پاکستان میں مختلف حکومتوں کے دور میں ٹیکس وصولی کے اعداد و شمار 

اسلام آباد (انصار عباسی) وزیراعظم عمران خان اور ان کی پارٹی کے رہنمائوں کو یقین تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں عوام زیادہ ٹیکسز دیں گے لیکن گزشتہ 15؍ سال کے سرکاری اعداد و شمار دیکھیں تو رواں مالی سال ملک میں ٹیکس کی افزائش کے حوالے سے اب تک کا بدترین سال رہا ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاء میں اور پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی حکومتوں (جنہیں پی ٹی آئی انتہائی کرپٹ قرار دیتی ہے) میں ٹیکس سے ہونے والی آمدنی میں بڑھوتری رواں مالی سال کے ابتدائی 10؍ ماہ کے اعداد و شمار کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر رہی تھی۔ رواں مالی سال کے ابتدائی 10؍ ماہ کے دوران ٹیکس جمع کرنے سے ہونے والی آمدنی 3؍ فیصد سے بھی کم ہے، لیکن گزشتہ 15؍ برس کے دوران یہ تناسب نمایاں طور پر زیادہ رہا ہے حالانکہ پی ٹی آئی مسلسل اس وقت کی حکمران جماعتوں نون لیگ اور پیپلز پارٹی کو چور اور کرپٹ کہتی رہی۔ سرکاری اعداد و شمار دیکھیں تو 2003ء تا 2004ء میں ایف بی آر کی جانب سے جمع کیا جانے والا ٹیکس 510.6؍ ارب روپے تھا لیکن رواں مالی سال کے اپریل تک مکمل ہونے والے ابتدائی 10؍ ماہ میں ایف بی آر صرف 2993؍ ارب روپے جمع کر پایا۔ ایف بی آر کو رواں مالی سال کے جولائی تا اپریل تک کے عرصہ میں 3337.7؍ ارب روپے جمع کرنا تھے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ عبوری طور پر جمع ہونے والی رقم میں 345؍ ارب روپے کم ہیں۔ اقتصادی امور کی رپورٹنگ کرنے والے سینئر صحافی مہتاب حیدر کہتے ہیں کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے بغیر 30؍ جون 2019ء تک زیادہ سے زیادہ 3940؍ ارب روپے ٹیکس جمع کیا جانا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایف بی آر کو رواں مالی سال کے دوران رقم جمع کرنے کے معاملے میں تقریباً 460؍ ارب روپے کی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ گزشتہ مالی سال 2017-18ء میں ایف بی آر نے 3842؍ ارب روپے جمع کیے تھے اور اس سال توقع ہے کہ جمع ہونے والی رقم تقریباً 3940؍ ارب روپے ہوگی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جمع ہونے والی رقم میں 2.5؍ فیصد افزائش ہوگی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 2003-04ء کے دوران جمع ہونے 510.6؍ ارب روپے کی رقم 2004-05ء میں بڑھ کر 590.4؍ ارب روپے ہوگئی یعنی اس میں 15؍ فیصد اضافہ ہوا۔ 2005-06ء میں جمع ہونے والی رقم 712.5؍ ارب روپے رہی جبکہ 2006-07ء میں یہ رقم 847.2؍ ارب روپے ہوگئی۔ پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت کے پہلے مالی سال یعنی 2008-09ء میں گزشتہ سال جمع ہونے والی 847.2؍ ارب روپے کے مقابلے میں 1161.2؍ ارب روپے جمع ہوئے۔ 2009-10ء میں اس میں مزید اضافہ ہوا اور 1328.6؍ ارب روپے جمع ہوئے۔ 2010-11ء میں اس میں مزید اضافہ ہوا اور یہ 1558؍ ارب روپے جمع ہوئے۔ ایف بی آر نے 2011-12ء میں 1883؍ ارب روپے جمع کیے اور 2012-13ء میں 1946؍ جمع کیے۔ یہ پیپلز پارٹی حکومت کا آخری مالی سال تھا۔ مسلم لیگ نون نے 2013-14ء میں 2255؍ ارب، 2014-15ء میں 2590؍ ارب، 2015-16ء میں 3112؍ ارب روپے، 2016-17ء میں 3367.9؍ ارب روپے اور 2017-18ء میں 3842؍ ارب روپے جمع کیے۔ ایف بی آر کے 2018ء کے سالنامے کے مطابق، گزشتہ پانچ سال کے دوران ایف بی آر کی جانب سے جمع کی جانے والی رقم میں اضافہ ہوا اور یہ 2013-14ء کے 2255؍ ارب روپے سے بڑھ کر 2017-18ء میں 3842.1؍ ارب روپے تک جا پہنچی۔ پانچ سال کی اوسط شرح افزائش 14.6؍ فیصد رہی۔ اس طرح، نون لیگ کی گزشتہ حکومت میں ٹیکس جمع کرنے میں 14.6؍ فیصد اضافہ ہوا اور اب یہ کم ہو کر صرف 2.5؍ فیصد تک جا پہنچا ہے۔ یہ سب کچھ پی ٹی آئی حکومت کے دعووں کے باوجود ہوا ہے کہ اس کی حکومت میں کوئی کرپشن اور سرکاری خزانے کا نقصان نہیں ہو رہا۔ وزیراعظم عمران خان کی رائے ہے کہ جب عوام اپنے حکمرانوں کو ایماندار دیکھیں گے اور یہ دیکھیں گے کہ حکمران ٹیکس دہندگان کے پیسے اپنی آسائشوں اور پروٹوکول پر خرچ نہیں کر رہے تو عوام حکومت پر اعتماد کریں گے اور زیادہ ٹیکس دیں گے۔ عمران خان نے یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ وہ دگنا ٹیکس جمع کریں گے لیکن ایسا نہیں ہو رہا۔ اس کی بجائے، ٹیکس جمع کرنے میں اضافے کا معاملہ منہ کے بل نیچے گر رہا ہے۔ دوسری جانب مختلف حکومتوں ذرائع اور سرکاری حلقوں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے ادوار میں جس بھونڈے انداز سے طرز حکمرانی اختیار کیا گیا اس سے ٹیکس اور ریونیو کے متعلق کئی مسائل پیدا ہوگئے، جنہیں درست کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومتوں میں پیدا کردہ مسائل کو درست کرنے کیلئے جو اقدامات کیے گئے ہیں وہ سخت ہیں لیکن ان کے نتیجے میں معاملات بہتر ہو جائیں گے، سخت اقدامات کی وجہ سے ہی ٹیکس وصولی میں کم ہو رہی ہے، تاہم پیچیدگیاں دور ہوتے ہی حالات بہتر ہونا شروع ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ حالات کو بہتر کرنے کیلئے سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ موجودہ حکومت نے اصلاحات اور معاشی صورتحال کو مستحکم و بہتر کرنے کیلئے معاشی و اقتصادی امور پر مامور ٹیم کو تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سخت اقدامات کے نتیجے میں حالات بہتر ہونا شروع ہو جائیں گے

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More