Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

نئے چیئرمین کم ٹیکس دینے والوں، نان فائلرز کا تعاقب کریں گے

اسلام آباد (مہتاب حیدر) ایف بی آر کے نئے تقرر کئے گئے چیئرمین شبر زیدی نے اپنے ترجیحی ایریاز کی نشاندہی کرلی ہے جن میں ایف بی آر کے دائرے میں پست حوصلہ افرادی قوت کے اعتماد کو بحال کرنا شامل ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وہ ان افراد کے خلاف جائیں گے جو اپنی حقیقی طاقت کے مقابلے میں نہایت کم ٹیکس فائل کر رہے ہیں۔ چیئرمین ایف بی آر کی حیثیت سے اپنی تقرری کے حوالے سے جاری باضابطہ نوٹیفکیشن کے بعد دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے شبر زیدی کا کہنا تھا کہ اگر کوئی اپنے 100 روپے کے واجب الادا ٹیکس میں سے 80 روپے ادا کر رہا ہے تو ہم ان کے خلاف نہیں جائیں گے لیکن اگر کوئی 100 روپے کے واجب الادا ٹیکس کے مقابلے میں صفر رقم دے رہا ہے تو ایف بی آر قومی خزانے کے تقاضے کے مطابق کارروائی کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ترجیحی ایریاز میں ایف بی آر کے دائرے میں کام کرنے والے پست حوصلہ افرادی قوت کے اعتماد کو بحال کرنا، رضاکارانہ فرمانبرداری پر اعتماد میں اضافہ کرنا، ٹیکس ادا کرنے والوں اور ٹیکس حکام کے درمیان باہمی عمل میں کمی لانا اور جتنا جلدی ممکن ہوسکے آٹومیشن کی جانب بڑھنا شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ٹیکس کا نظام بہتر ہوگا تو اس کا نتیجہ ریوینیو میں اضافے کی صورت سامنے آئے گا۔ جب ان سے آئی ایم ایف انتظام میں داخلے کے بعد ٹیکس کلیکشنٹارگٹ کے لائحہ عمل کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ ٹیکس نظام کے حصہ افراد کے بجائے کم ترین ٹیکس دینے والے یا نان فائلرز پر توجہ مرکوز رکھیں گے۔ دریں اثناء حکومت نے آخر کار چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کی حیثیت سے دو سالہ مدت کیلئے اعزازی بنیاد پر شبر زیدی کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ اسٹبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت سمجھتی ہے کہ اعزازی بنیاد پر تقرری سے کسی بھی عدالت تک رسائی کی کوششیں ناکام ہوجائیں گی جیساکہ سابق چیئرمین ایف بی آر علی ارشد حکیم کی مثال موجود ہے جن کی تقرری اسلام آباد ہائی کورٹ نے غیرقانونی قرار دی تھی۔ ایف بی آر عہدوں میں اعلیٰ سطح پر مکمل فرمانبرداری ہے جیسا کہ تمام افسران نے حکومت کو یقین دلایا ہے کہ وہ ملک کے چیف ایگزیکٹو کی جانب سے کئے گئے فیصلے کی پابندی کریں گے۔ تاہم آفیسرز ایسوسی ایشن کے عہدیداران کا خیال ہے کہ وہ کوئی بھی شدید قدم اٹھانے سے قبل اپنے ارکان سے تفصیلی مشاورت کریں گے ۔ انہوں نے مختلف سمریاں پیش کرتے ہوئے عدالت جانے کے امکان کو زیر غور لانے سے انکار نہیں کیا جیسا کہ ان میں سے ایک اسٹبلشمنٹ ڈویژن نے چند اعتراجات اٹھائے تھے اور ان وجوہات پر وہ عدالت جاسکتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ چند روز بعد اپنی قیادت سے تفصیلی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More