Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

ٹیکس وصولی کےلئے بغیر اطلاع بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے پر پابندی

اسلام آباد (خبرنگارخصوصی)فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)کے چیئرمین سید شبر زیدی نے چارج سنبھالنے کے بعد ٹیکس وصولی کیلئے ٹیکس گزاروں کے اکاؤنٹس بلا اطلاع منجمد کرنے پر پابندی عائد کر دی اور کہاہے کہ اس کیلئے پہلے ٹیکس گزار کو ٹیکسوں کی ادائیگی کا پورا موقع فراہم کرنا اور اس میں ناکامی کی صورت میں چیئرمین ایف بی آر کی پیشگی اجازت کے بغیر ٹیکس گزاروں کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے پر پابندی ہوگی ۔ چارج سنبھالنے کے بعد سید شبر زیدی نے وزارت خزانہ میں مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اور سیکرٹری خزانہ یونس ڈھاگا سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے نئے چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ بے شک ایف بی آر کے قانون میں بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کی گنجائش موجود ہے لیکن میرا یہ خیال ہے کہ پہلے ٹیکس گزار کو ٹیکس ادا کرنے کا پورا موقع فراہم کرنا ضروری ہے اور پھر بھی اگر ضروری ہے تو اس کیلئے چیئرمین ایف بی آر کی پیشگی اجازت اور منظوری لازمی ہو ۔انہوں نے بتایا کہ کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹوز کو بینک اکاؤنٹس منجمد کئے جانے کے 24گھنٹے قبل اطلاع دینا ضروری ہے ۔ جب ان سے استفسار کیا گیا کہ ٹیکس نیٹ میں توسیع کیلئے وہ کونسی اصلاحات متعارف کروائیں گے تو شبر زیدی کا کہنا تھا ٹیکس نیٹ کا لفظ درست نہیں اس کے معنی منفی کے ہیں ہم ٹیکسوں کی بنیادکو وسیع کریں گے ملک میں بلیک اکانومی کو ٹیکس نیٹ میں لائیں گے ۔انہوں نے بتایا کہ ملک میں بلیک اکانومی کا حجم موجودہ معیشت کا30فیصد ہے ہم نے ٹیکس نیٹ سے باہر لوگوں کو سسٹم میں لانا ہے ، بلیک اکانومی کو فارمل کرنا ہے ، اس میں سے نئے ٹیکس کی گنجائش تلاش کی جائے گی اور جو لوگ پورا ٹیکس ادا نہیں کرتے انہیں ایف بی آر کے ڈیٹا بینک کی معلومات کے مطابق پورا ٹیکس ادا کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیکس گزاروں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد بجٹ اقدامات کو حتمی شکل دی جائے گی ۔قبل ازیں ایف بی آر کے افسروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہر معاملہ میں چیئرمین ایف بی آر کی منظوری لازمی نہیں ہوگی بلکہ وہ منظوری کے اختیارات فیلڈ میں کام کرنیوالے افسروں کو منتقل کریں گے تاکہ ٹیکس گزاروں کے مسائل انہی کے شہر کے اندر حل کئے جا سکیں اور انہیں ایف بی آر ہیڈ کوارٹر زمیں نہ آنا پڑے ۔انہوں نے کہا ٹیکس سسٹم میں موجود خامیوں کو دور کیا جائے گا ٹیکس مشنری کو مستعد بنایا جائے گا اور ٹیکس کے نظام میں جہاں جہاں مشکلات اور خرابیاں ہیں انہیں دور کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا ہر بندہ آئی ایم ایف کی بات کر رہا ہے ،آئی ایم ایف کی بات نہ کریں ،پاکستان کی بات کریں ۔ ریونیو شارٹ فال سے متعلق ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا، ٹیکس کلیکشن بہتر بنانے کیلئے اصلاحات کی ضرورت ہے ، ہم وہی کریں گے جو پاکستان کے مفاد میں ہو گا۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More