Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

ای سی سی کا اجلاس:سعودی منصوبوں پر ٹیکس ختم،ساڑھے 51لاکھ ٹن گندم خریدنے کی منظوری

اسلام آباد (وقائع نگار) اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اس سال کیلئے 158 ارب روپے سے زائد مالیت کی ساڑھے 51لاکھ ٹن گندم خریدنے کی منظوری دیدی۔ کمیٹی کا اجلاس مشیر خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ کی زیر صدارت ہوا جس میں کراچی میں بجلی کی قلت دور کرنے کیلئے قومی گرڈ سے کے الیکٹرک کو2برس کیلئے 150 میگاواٹ اضافی بجلی کی فراہمی کی بھی منظوری دی گئی۔ کمیٹی نے ٹرائبل الیکٹرک سپلائی کمپنی کیلئے رمضان کیلئے ایک ارب80 کروڑ روپے اضافی اعانت کی منظوری دی تاکہ سابق فاٹا کے 7قبائلی اضلاع کو اضافی بجلی فراہم کی جائے ۔ توانائی ڈویژن نے بتایاکہ حکومت نے ماہانہ ایک ارب 30 کروڑ روپے کی اعانت سے سابق فاٹا کے گھریلو صارفین کے بل ادا کئے ہیں۔ کمیٹی نے سعودی فنڈ برائے ترقیاتی گرانٹ کے تحت زیرتعمیر منصوبوں پر ٹیکس چھوٹ کی تجویز کی منظوری دی۔ کمیٹی نے غریب اور ضرورت مند افراد کیلئے کام کرنے والی غیر منافع بخش فلاحی تنظیم کی طرف سے کراچی پورٹ ٹرسٹ پر نادار افراد کیلئے مختص کردہ چاول کی کھیپ پر سٹوریج چارجز ختم کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ ای سی سی نے مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کیلئے ضمنی اور تکنیکی ضمنی گرانٹس کی بھی منظوری دی۔این این آئی کے مطابق اجلاس میںصنعتی صارفین کو بجلی پر 3روپے فی یونٹ سبسڈی جاری رکھنے کا فیصلہ نہ ہوسکا۔ پاور ڈویژن نے صنعتی صارفین کو دی جانے والی سبسڈی کے 118ارب روپے مانگ لیے ۔ پاور ڈویژن حکام نے کہا صنعتی صارفین کی اس سال کی سبسڈی اب تک 118ارب روپے تک پہنچ چکی ہے ،حکومت رقم فراہم کرے تو سبسڈی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا جائیگا۔ حکومت کو ناکام بنانے کیلئے سیاستدانوں، بیوروکریسی میں گٹھ جوڑ:پی ٹی آئی کے لوگ بھی سازش کا حصہ
لاہور ( رانا محمد عظیم) حکومت کے 10 ماہ میں حکومت کی بدنامی اور ناکامی کا سبب بننے میں کون کون شامل تھا، کس کس بیوروکریٹ، سیاستدان نے غلط مشورے اور غلط پالیسی بنا کر دی، ڈالر کی قیمت کو کس طرح مصنوعی طور پر بڑھا کر حکومت کے خلاف فضا قائم کی، حکومت، بیوروکریسی اور دیگر سیاسی جماعتوں میں کون کون سے افراد آپس میں رابطوں میں ہیں اور عمران خان کی حکومت کو فلاپ کرنے کیلئے کردار ادا کر رہے ہیں، اس حوالے سے دو اداروں کی ابتدائی رپورٹ میں کئی اہم انکشافات سامنے آئے ۔ذرائع کے مطابق ڈالر کی بار بار بڑھتی ہوئی قیمت کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ اس میں سابقہ اور موجودہ حکومت سے تعلق رکھنے والا با اثر مافیا ملوث ہے اور کئی بینکرز اور بڑے بزنس ٹائیکون بھی اس مافیا کا حصہ ہیں۔ رپورٹس میں لکھا گیا ہے کہ گزشتہ روز ڈالر کی قیمت میں اضافہ سے پہلے 6 بڑے بزنس ٹائیکون ،دو بڑے لینڈ مافیا اور ایک سابقہ حکومت کا چہیتا گروہ، جو اس حکومت میں بھی وزرا کے قریب تر ہے ، نے مارکیٹ سے نہ صرف ڈالر اٹھوایا بلکہ مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی پریس کانفرنس سے کچھ دیر پہلے پلاننگ کے تحت مختلف سٹاک ایکسچینج میں پراپیگنڈہ کیا کہ ڈالر کی قیمت بڑھ جائے گی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مارکیٹ سے اچانک ڈالر اٹھوا کر از خود ڈالر کی قیمت میں اضافہ کر دیا گیا اور اس سے اس مافیا کو 50 ارب سے زائد ایک دن میں فائدہ ہوا۔ ذرائع کے مطابق اب اسی مافیا نے پراپیگنڈہ شروع کر دیا کہ ڈالر دو سو روپے تک جائے گا، یہ افواہ پھیلا کر ڈالر کو مہنگے داموں فروخت کر کے مزید پیسہ کمایا جائے گا۔ رپورٹس میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ حکومت کی اس عرصہ کی کاکردگی میں جو حکومت نے بہتر کام کئے تھے ، ان کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ بیوروکریسی اور کچھ سیاستدانوں کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے حکومت کے ان اقدامات کی عوامی پذیرائی نہیں ہونے دی گئی ، یہاں تک کہ رمضان المبارک میں نہ ہونے کے برابر لوڈشیڈنگ کا کریڈٹ بھی حکومت کے حصہ میں نہیں آ سکا۔رپورٹ میں کچھ وزرا کی نا اہلی کو بھی سامنے لایا گیا ہے جبکہ رپورٹس میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ادویات کی قیمتیں بڑھنے اور وزیر اعظم کے احکامات اور نیب کے نوٹس لینے کے بعد بھی قیمتیں پرانے ریٹس پر واپس نہ آنے میں بھی چار با اثر سیاسی شخصیات کے ساتھ ساتھ کچھ بیوروکریٹس کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔ذرائع کے مطابق رپورٹ میں پنجاب کی اہم ترین شخصیت کے دفتر میں پرویز رشید کے قریب ترین ساتھیوں اور ن لیگ کے میڈیا سیل کے اہم افراد کے وہاں لگنے کے حوالے سے بھی کہا گیا ہے کہ خود تحریک انصاف کے کچھ لوگوں نے اپنی حکومت کا خود بیڑہ غرق کرنے کیلئے ن لیگ کے میڈیا سیل کو پنجاب کے اہم ترین ادارے میں بٹھا رکھا ہے ۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے بیوروکریسی اور سیاسی گٹھ جوڑ میں یہ پلاننگ ہو چکی ہے کہ ہر صورت میں عمران خان کی حکومت کو فیل کیا جائے اور ستمبر، اکتوبر تک ایسے اقدامات کرائے جائیں کہ عوام تنگ آکر سڑکوں ہر نکل آئیں اور ان کی حکومت کا خاتمہ ہو ۔ ذرائع کے مطابق اس میں تین بڑی سیاسی قوتوں کے اہم رہنما، تحریک انصاف کے اندر موجود کچھ افراد شامل ہیں، ان افراد کے حوالے سے جو حکومتی جماعت میں موجود ہیں، ان کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ ان میں سے ایک کا تعلق اسلام آباد، تین کا تعلق پنجاب سے ہے اور ان چاروں کے خلاف اگست یا ستمبر میں نیب کا ایک بڑا کیس بھی سامنے آنے والا ہے اور وہ اس سے بچنے کیلئے اس سازش میں شامل ہیں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More