Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

وزارت خزانہ کے اچھے، برے اور بدتر مالیاتی تخمینے

اسلام آباد (انصار عباسی) اگرچہ آئی ایم ایف ڈیل کی تفصیلات وزیروں کو بھی معلوم نہیں، وزارت خزانہ کی چند ماہ پرانی دستاویز سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت آئی ایم ایف حکام کے ساتھ کیا مذاکرات کیے جا رہے تھے۔ دستاویز دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ جون 2019ء کے آخر تک ڈالر کی قدر 150؍ روپے تک جانے کا اندازہ لگایا گیا تھا، 2020ء میں یہ قدر 159؍ روپے اور 2021ء میں 168.5؍ روپے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ دستاویز میں سرکاری قرضوں کا بھی تخمینہ موجود تھا جو تین سال میں 11؍ ہزار ارب روپے تک جا پہنچیں گے۔ آئندہ تین سال کیلئے زر مبادلہ کے تخمینے، جی ڈی پی کے مقابلے میں قرضوں کا تناسب، سرکاری قرضہ جات اور مالی خسارے کے حوالے سے پیش کیے گئے اندازوں کو دیکھ کر اگر کچھ باتیں مایوس کن ہیں تو کچھ مثبت بھی ہیں۔ مثلا، جون 2018ء میں ایک ڈالر کی قدر 121.5؍ روپے کے مساوی تھی، جون 2019ء کے متعلق تخمینہ لگایا گیا ہے کہ یہ 150؍ روپے تک جا پہنچے گی، جون 2020ء میں یہ 159ء اور جون 2021ء میں 168.5؍ روپے ہو جائے گی۔ جی ڈی پی کے مقابلے میں قرضوں کی شرح 2018ء میں 70.2؍ فیصد
تھی، 2019ء میں یہ 75؍ فیصد تک جا پہنچے گی، 2020ء میں 71.30؍ فیصد جبکہ 2021ء میں 69.70؍ ہو جائے گی۔ اسی طرح 2018ء میں جو سرکاری قرضہ جات 24؍ ہزار 949؍ ارب روپے تھے، ان کا بھی آئندہ تین سال کیلئے تخمینہ لگایا گیا ہے جس کے مطابق 2019ء میں یہ قرضہ جات 29؍ ہزار 408؍ ارب روپے، 2020ء میں 32؍ ہزار 581؍ ارب روپے، 2021ء میں 35؍ ہزار 938؍ ارب روپے ہو جائیں گے۔ 2018ء میں جی ڈی پی 34؍ ہزار 396؍ ارب روپے تھی، 2019ء میں اس کا تخمینہ 39؍ ہزار 220؍ ارب روپے، 2020ء کیلئے 45؍ ہزار 725؍ ارب روپے اور 2021ء کیلئے 51؍ ہزار 536؍ ارب روپے لگایا گیا ہے۔ مالی خسارہ 2018ء میں جی ڈی پی کا 6.6؍ فیصد تھا۔ تخمینے کے مطابق 2019ء میں یہ جی ڈی پی کا 5.6؍ فیصد، 2020ء میں 5.3؍ فیصد جبکہ 2021ء میں 4.9؍ فیصد رہے گا۔ دستاویز کے مطابق، جی ڈی پی، مالی خسارے اور زر مبادلے کے متعلق تخمینے آئی ایم ایف کے گزشتہ مشن کے دوران ڈی پی سی او (ڈیٹ پالیسی اینڈ کو آرڈینینش آفس) کو فراہم کیے گئے تھے اور ان تخمینوں میں کسی بھی طرح کی کمی ڈی جی پی کے مقابلے میں قرضوں کی شرح کے حوالے سے لگائے گئے تخمینوں میں تبدیلی کر دے گی۔ یہ تخمینے وزارت خزانہ نے چند ماہ قبل اُس وقت تیار کیے تھے جب اسد عمر وزیر خزانہ تھے۔ یہ معلوم نہیں ہے کہ اسد عمر کے جانے اور حفیظ شیخ کے آنے کے بعد سے حالات بہتر ہوئے ہیں یا نہیں، لیکن جو لوگ بھی آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں شامل تھے وہ مذاکرات کے نتائج سے خوش نہیں۔ وزارت خزانہ کے سینئر عہدیداروں سے رابطہ کرکے صورتحال پر موقف معلوم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن جواب نہیں ملا۔ تاہم، وزیر اعظم کے مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے جمعرات کو کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ آئی ایم ایف پاکستان کو سستے مارک اپ ریٹ پر 6؍ ارب ڈالرز دینے پر رضامند ہوا ہے جس سے ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے مزید 2؍ سے 3؍ ارب ڈالرز سستی شرح سود پر ملنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کے نتیجے میں دنیا بھر کے ملکوں کو یہ پیغام جائے گا کہ پاکستان نے مالی اور مالیاتی شعبے میں اصلاحات کا فیصلہ کیا ہے جبکہ قرضے کے پروگرام سے زیادہ ریونیو پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئی ایم ایف کا یہ پروگرام غیر ملکی سرمایہ کاروں، سرحد پار تجارتی شراکت دار ممالک اور دوست ممالک کیلئے اچھا سگنل ہے وہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ کریں۔ آئی ایم ایف کے معاشی استحکام پروگرام سے معاشرے کے مستحق طبقے کو سہولت ملے گی اور آنے والے دنوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام میں تین سے چار نمایاں خصوصیات ہیں جو معاشرے کے غریب طبقے کیلئے سود مند ہیں، بالخصوص بجلی کے صارفین کیلئے جو ماہانہ 300؍ یونٹس سے کم بجلی استعمال کرتے ہیں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More