Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

مقبوضہ کشمیر مں گوانتاناموبے اور ابو غریب جیسی اذیت گاہیں اقوام متحدہ نوٹس لے

مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شہریوں پر منظم طریقہ سے تشدد کو غیر اعلانیہ ریاستی پالیسی کے طور پر اپنایا جا چکا ہے ۔وادی میں گوانتاموبے اور ابو غریب جیل جیسی اذیت گاہیں قائم ہین جہاں ہزاروں شہری بیہمانہ تشدد کا نشان بن چکے ہیں۔ اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ تشدد ہلاکتوں کا نوٹس لے کر تحقیقاتی کمیشن بنایا جائے ۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے مقبوضہ کشمیر میں بدترین تشدد اور ہلاکتوں پر بھارت سے جواب طلب کیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں لاپتہ ہونے والے نوجوانوں کے والدین کی تنظیم اور جموں وکشمیر کی سول سوسائٹی کے اتحا دنے ایک ہوشربا رپورٹ جاری کی ہے جس میں نشاندہی کی گئی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج تشدد و عقوبت رسائی کے وہ تمام حربے استعمال کررہی ہے جو انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر انسانی اور غیر قانونی قرار دیے جا تے ہیں گوانتاماموبے اور عراق کی ابو غریب جیل میں انسانی حقوق کی پامالی کے واقعات کے منظر عام پر آنے کے بعد بین الاقوامی سطح پر ایسے واقعا تکی پر زور مذمت اور توجہ کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے قائم ایسے ہی عقوبت خانے بین الاقوامی نظروں سے اوجھل ہیں اور انسانی حوق کی صورت حال پر کوئی بات نہیں کی گئی ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تشدد کو مقبوضہ جموں وکشمیر میں باقاعدہ ایک سوچی سمجھی پالیسی کے تحت منظم حربے کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے ۔ سیکورٹی فورسز گزشتہ تیس سال سے آزادی کی تحریک کو دبانے کے لیے ہزاروں کشمیریوں کو جسمانی اور ذہنی اذیت پہنچانے کے تمام حربے استعمال کررہی ہین جن میں ” واٹر بورڈنگ اور جسم کے نازک اعضاء پر کرنٹ لگانا شامل ہے۔ رپورٹ میں 432 پر قیدیوں پر مبینہ تشدد کے واقعات پر تحقیق کی گئی اور کہا گیا کہ ان مین سے ایسے چالیس کیس سامنے آئے جن میں قیدیوں کو انتہائی جسمانی تشدد کے باعث شہید ہو گئے جبکہ 190 قیدی ایسے تھے جن کو برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ 326 افراد کو تشدد کے دوران ڈنڈوں، لوہے کے راڈوں ، سریوں ، چمڑے کے ہنٹروں اور بیلٹوں سے مارا پیٹا گیا ۔ سروں کو پانی میں ڈبو کر تشدد کرنے کے 101 واقعات سامنے آئے جسم کے نازک اعضاء پر بجلی کرنٹ لگا کر 231 پر تشدد کیا گیا اور 121 قیدیوں کو سر کے بل چھت سے لٹکایا گیا،21 قیدیوں کو سونے نہیں دیا گیا اور 238 کو ریپ اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ حراستی مراکز مین تشدد کا نشانہ بننے والے لوگوں کی اکثریت سے عام شہریوں کی تھی ۔ 432 قیدی جن کا رپورٹ میں تفصیل سے ذکر ہے ان میں 301 خواتین ،طلبہ ،کم عمر بچے ، سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکن اور صحافی شامل تھے۔ اسی طرح شہریوں کو اجتماعی طور پر سزا دینے کے بھی طریقے بنا لئے گئے ہیں جن میں پوری آبادیوں کا محاصرہ کرکے وہاں تلاشی کے بہانے گھروں میں گھس کر لوگوں پر تشدد اور خواتین کا ریپ کیا جاتا ہے ۔ تشدد ، اور بربریت کا یہ سلسلہ وسیع پیمانے پر اب بھی جاری ہے ۔ رپورٹ مین ایک واقعہ بھی درج کیا گیاہے جس مین اس سال مارچ کی انیس تاریخ کو مبینہ طور پر ایک مقامی سکول کے انتیس سالہ پرنسپل رضوان پنڈت کو غیرقانونی طورپر حراست میں لیے جانے کے بعد کشمیر پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ کے کارگو کیمپ میں تشدد کرکے ہلاک کردیا گیا تھا اسی طرح فوج اور سیکیورٹی فورسز کے علاوہ اخوان اور ویلیج ڈیفنس کمیٹیوں کو بھی وقتا فوقتا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں شامل کیا جاتا رہا ہے تاہم خطے مین فوج اور سیکیورٹی فورسز کو خصوصی قوانین کے تحت قانونی تحفظ حاصل ہونے کی وجہ سے انسانی حقوق کی پامالی کے ایک بھی واقعہ مین ملوث کسی فوجی اور سرکاری اہلکار کو سزا نہیند ی جا سکی۔ رپورٹ میں اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ کشمیر مین پیش آنے والے ظلم اور بریت اور ہلاکتوں کے واقعات پر بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کرائی جائیں اور ایک کمیشن قائم کیا جائے ادھر بھارتی حکومت نے رپورٹ پر فوری تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ کا مکمل جائزہ لے کر ردعمل ظاہر کیا جائے گا۔ دوسری جانب اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل نے بھارتی حکومت کو ایک خط لکھ کر پوچھا ہے کہ شہریوں پر تشدد اور ماروائے قانون بلاک کیے جانے کے 76 واقعات کی تحقیقات اور متاثرین کو انصاف فراہم کرنے کے لیے اقدامایت کیوں نہیں کیے گئے۔ بتایا گیا ہے کہ یو این ایچ سی آر کے خصوصی نمائندوں اگینس کلامارڈ ، ڈینس پوراس اور نیلس مینور نے 18 مارچ کو بھارتی حکومت کو خط لکھ کر جواب مانگا تھا اور اسے تقریبا دو ماہ کے بعد منظر عام پر لایا گیا ہے ۔ 2018 ء میں قابض فوج کے ہاتھوں 8 شہریوں کی شہادت کا کیس بھی شامل ہے اور کہا گیا ہے کہ حکومت نا صرف متاثرین کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہی بلکہ تشدد او رماورائے قانون ہلاکتوں کے واقعات کے واقعات بھی نہ رکے ، خط میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ حکومت نے تشدد وہلاکتوں کے واقعات کی روک تھام کے لیی کوئی اقدامات کیوں نہیں کیے ۔ ادھر بھارت نے ایک بار پھر ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو تفصیلات فراہم سے انکار کرتے ہوئے خط کو مسترد کردیا اور الزاما ت کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ ایک بند باب ہے دریں اثنا مقبوضہ کشمیر میں بارہ نوجوانوں کی شہادت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں جبکہ کولگام کے گائوں میں گھر پر حملے سے پی ڈی پی ورکر زخمی ہو گیا ۔ بانڈی پورہ سے ایک لاپتہ استاد کی لاش برآمد ہوئی ہے ۔ ادھر ہزاروں لوگوں نے سوپور قصبے مین بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے کشمیری نوجوان عرفان احمد کی نمازجنازہ میں شرکت کی

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More