Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

’’ووٹ کو عزت دو‘‘پر پہلے پارٹی میں اختلاف اب شہباز بھی متفق

اسلام آباد(طارق عزیز)مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے اعتراف کیا ہے کہ’’ووٹ کو عزت دو‘‘بیانیہ پر پہلے پارٹی تقسیم تھی تاہم اب پوری پارٹی بشمول شہباز شریف، نوازشریف کے بیانیہ پر متفق ہے ، مریم نواز نے پارٹی رہنمائوں اور ارکان پارلیمنٹ کوکہا کہ آپ اپنے اپنے حلقوں، علاقوں میں ووٹ کو عزت دو کے بیانیہ پر جلسے منعقد کریں ،میں اور حمزہ شہباز دونوں خطاب کرنے کے لئے آئیں گے ، انہوں نے کہاکہ ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ ن لیگ کے کارکنوں کے ذہنوں میں گھس گیا ہے ، عام کارکن پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں، ہمیں آگے بڑھ کر ووٹ کو عزت دلوانے کے لئے کردار اداکرنا ہوگا، جس کیلئے دوبارہ سے تحریک شروع کر دی گئی ہے ، مریم نواز نے پارٹی اجلاس میں شریک سینئر قیادت اور پارلیمنٹرین پر واضح کیا کہ ان کے والد، قائد ن لیگ نواز شریف آئین، پارلیمنٹ کی بالادستی، قانون کی حکمرانی کے موقف سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے ، والد کو میری فکر ہے جبکہ میں نے اپنے قائد اور والد کوکہہ دیاہے کہ آپ میری فکر نہ کریں، ووٹ کی عزت کے لئے مجھے دوبارہ بھی جیل ڈال دیا جائے تو میں تیار ہوں، ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مسلم لیگ ن کے اعلٰی سطح مشاورتی اجلاس میں مریم نواز نے واضح کیا کہ اگر ووٹ کو عزت دو بارے کسی کا نکتہ نظر مختلف تھا تو بھی وہ نواز شریف کے بیانیہ پر آگیا ہے ، اب ہمیں اس بیانیہ کو آگے لے کر چلنا ہے ، ووٹر پیچھے نہیں ہٹا قیادت کے اندر اختلاف رائے موجود تھا، ذرائع کے مطابق سینیٹر پرویز رشید نے اجلاس میں کہاکہ ہمیں پاکستان کے مسائل کے حل کے ساتھ نوازشریف کی رہائی کا بھی مطالبہ کرنا چاہیے ، نواز شریف پر کرپشن ثابت نہیں ہوسکی ۔ہمیں کس بات کی شرمندگی ہے کہ نواز شریف کی رہائی کا مطالبہ اس زور و شور کے ساتھ نہیں کیا جارہا جس کا نواز شریف مستحق ہے ، ریاستی اداروں نے کردار ادا کرتے ہوئے نواز شریف کو پارلیمانی نظام سے الگ کیا ۔ہمیں اس بیانیہ کو بھی آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ، ذرائع کے مطابق احسن اقبال نے تنظیم نوکے بارے میں بریفنگ کے دوران وضاحت کی کہ پہلے سے موجود سینئر نائب صدور اپنے عہدوں پر قائم ہیں،ذرائع کے مطابق اجلاس میں اس رائے کی بھی مخالفت کی گئی کہ حکومت گرانے کی کوشش کرنے کی ضرورت نہیں، یہ خود اپنے وزن سے گر جائے گی، پارٹی میں ہارڈ لائنرز کا موقف تھا کہ لیڈر شپ بالخصوص اپوزیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت کو گرانے کے لئے سڑکوں پر آئے ، اگر حکومت خود ہی گر جائے تو پھر اپوزیشن کا کیا کمال ہوگا عوام اپوزیشن کی طرف دیکھ رہے ہیں، ہمیں عوام کی توقعات کے مطابق مہنگائی کیخلاف تحریک کی قیادت کرنی چاہیے ۔ پارلیمنٹ کے باہر ن لیگ کو اکیلے طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہیے

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More