Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

موٹرسائیکلوں کیلئے ’’سستاپٹرول‘‘،اوگرانے مخالفت کردی

اسلام آباد(وقائع نگارخصوصی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم نے ایران سے پٹرول کی سمگلنگ سے خزانے کو 60 ارب روپے سالانہ نقصان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بارڈر پر ایف سی اور کسٹم اہلکاروں کی موجودگی بڑھانے جبکہ موٹرسائیکلوں کیلئے کم معیار کا سستا پٹرول دوبارہ متعارف کرانے کی تجویز پر شراکت داروں سے مشاورت کی سفارش کی ہے ۔ کمیٹی کا اجلاس سینیٹر محسن عزیز کی صدارت میں ہوا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا ایران سے پٹرول سمگلنگ سے حکومت کو 60ارب روپے سالانہ کا نقصان ہورہا ہے ۔ ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا بارڈر پر لوگوں کا کوئی روزگار نہیں، اگرآپ اس کو بند کردیں گے تو پھر انہیں کوئی بندوق پکڑادے گا۔ سینیٹر شمیم آفریدی نے کہا یہ کام سرکاری سرپرستی میں ہورہا ہے ۔ سینیٹر میرکبیر نے کہا پہلے یہ کام بڑی گاڑیوں میں ہوتا تھا، اب رکشہ اور موٹرسائیکل والے بھی کررہے ہیں۔ سر دار یعقوب خان ناصر نے کہا ریاست سرحدی علاقوں کے لوگوں کو روزگار مہیا کرے ، اس کے بعد بھی لوگ سمگلنگ کریں تو انہیں پھانسی چڑھادیں۔ آئی جی ایف سی بریگیڈیئر رضوان نے بتایا بلوچستان کا بارڈر بہت بڑا ہے ، سمگلنگ روکنا کسٹم کا کام ہے ، ایف سی سکیورٹی فراہم کرتی ہے ، کسٹم حکام سمگل شدہ پٹرولیم مصنوعات جرمانہ عائد کرنے کے بعد چھوڑدیتے ہیں، بلوچستان کے 2 ہزار کلومیٹر کی شاہراہوں پر کوئی پٹرول پمپ نہیں، سمگلنگ روکنے کیلئے ان شاہراہوں پر پٹرول پمپ قائم کئے جائیں۔بزنس منیجر پی ایس او کوئٹہ نے بتایا بلوچستان کے دس اضلاع میں پٹرول پمپ ہی نہیں۔ کسٹم حکام نے بتایا 1 ہزار 119 مربع کلومیٹر پر کسٹم کا صرف ایک اہلکار موجود ہوتا ہے ، تیل سمگلنگ کے خاتمے کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے ، متعدد بار ٹاسک فورس کے قیام کی تجویز دے چکے ہیں۔ کمیٹی نے سفارش کی تیل سمگلنگ کو کم کرنے کیلئے کسٹم اور ایف سی اہلکاروں کی موجودگی بڑھائی جائے ۔ اجلاس میں موٹرسائیکلوں کیلئے کم معیار کے 80۔82 رون پٹرول دوبارہ متعارف کرانے کی تجویز کا جائزہ بھی لیا گیا۔ چیئرپرسن اوگرا عظمیٰ عادل نے مخالفت کرتے ہوئے کہا دنیا آگے جارہی ہے ، ہم پیچھے کیسے جائیں۔ پی ایس او حکام نے بتایا ملک میں 80 اور 92 رون دونوں نہیں چلاسکتے ۔ موٹرسائیکلز کیلئے اگر 80 رون لانا ہے تو پہلے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سے مشاورت کی جائے ۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ وزارت پٹرولیم تمام شراکت داروں کے ساتھ اس معاملے پر مشاورت کرے اور اگر رون 80-82 قابل عمل ہے تو انفراسٹرکچر کے حوالے سے اقدامات کئے جائیں۔ ایک ٹی وی کے مطابق وزیراعظم نے اپنے معاون خصوصی کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس تجویز کا جائزہ لے ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں پٹرول کی یومیہ طلب لگ بھگ 6 کروڑ 50 لاکھ لٹر ہے جس میں 30 سے 40 فیصد موٹر بائیک میں استعمال ہوتا ہے ۔اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت نے موٹر سائیکلز کیلئے ‘لو گریڈ’ پٹرول متعارف کرانے پر غور شروع کردیا گیا ہے ۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More