Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

ریلوے اراضی ذاتی ملکیت قرار دیکر بینک سے قرضے کے اجرا کی تحقیقات

کراچی (رپورٹ: نادر خان) ایف آئی اے میں پاکستان ریلوے کی اراضی پرجعلی دستاویزات کے ذریعے ذاتی ملکیت قرار دے کر ایک بینک سے 20 کروڑ روپے قرض کے اجراء کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہے ۔ کراچی سرکلر ریلوے کے لیے مختص اراضی پر 17 سال قبل لیے گئے قرضے کی ایک قسط بھی ادا نہیں کی گئی، اسی اراضی پر بلڈر نے ون یونٹ بنگلوز بنا کر فروخت بھی شروع کر دی ہے ۔ بلڈر اراضی کو اپنی ملکیت ظاہر کرنے کے لیے ایف آئی اے میں قرضہ حاصل کرنے والے کے خلاف مدعی بن گیا ہے ۔ سپریم کورٹ کے حکم پر سرکلر ریلوے بحالی آپریشن میں بھی اس حصے پر کارروائی سے انتظامیہ نے گریز کیا۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق 2002 ء میں بینک سے 20 کروڑ روپے قرضہ لے کر ایک بھی قسط ادا نہ کرنے پر ایف آئی ا ے اینٹی کرپشن سرکل میں تحقیقات جاری ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حاجی یعقوب نامی شخص کو ایسی اراضی پر قرضہ فراہم کیا گیا جو پاکستان ریلوے کی اراضی ہے اور یہ زمین کراچی سرکلر ریلوے کے لیے مختص ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 2002 ء میں بینک نے حاجی یعقوب کو گلشن اقبال راشد منہاس روڈ سے متصل الٰہ دین پارک کے عقب میں واقع دیہہ اوکیوڑی کی اراضی پر کمرشل زمین ظاہر کر کے قرضے کی منظوری دی، جس کے لیے اُس وقت کے بینک کے اعلیٰ افسران نے قرضے کو پہلے منظور کیا اور بعد میں درخواست کا عمل مکمل کیاتھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے زونل آفس میں اسی زمین پر احمد ریزیڈنسی کے نام سے ون یونٹ بنگلوز بنانے والے بلڈر نے درخواست جمع کرائی ہے کہ حاجی یعقوب نے اس کی اراضی کی جعلی دستاویزات تیار کر کے اس پر بینک سے قرضہ لیا ہے اور ایف آئی اے حکام احمد ریزیڈنسی کی مدعیت میں حاجی یعقوب کے خلاف مقدمے کا اندراج کریں، تاہم جب اس درخواست پر ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل میں تحقیقات شروع کی گئی تو معلوم ہوا کہ یہ اراضی کراچی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے )، کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی )، سندھ ریونیو بورڈ (ایس آر بی) کی ملکیت نہیں ہے بلکہ یہ اراضی پاکستان ریلوے کی ہے جس کی تصدیق کے لیے جب اس مقام کی کھدائی کرائی گئی تو 12 فٹ نیچے ریل کی پٹڑی بھی سامنے آ گئی ۔ ذرائع کا کہناہے کہ اس تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا گیا تو معلوم ہوا کہ حاجی یعقوب نامی شخص کو بینک سے ملنے والا قرضہ بھی غیر قانونی طریقے سے جاری ہوا، جب کہ اس اراضی پر احمد ریزیڈنسی کی تعمیر بھی غیر قانونی ہے ،اس ضمن میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل نے پاکستان ریلوے کو بھی آگاہ کیا اور دوسری جانب اس درخواست پر بھی تحقیقات جاری رکھی۔ اس دوران بینک سے معلو م ہوا کہ حاجی یعقوب کے بیٹے اور بیٹیاں بھی اس قرضے سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہیں، تاہم بینک میں صرف حاجی یعقوب کو ہی ظاہر کیا گیا ہے ، اس وقت حاجی یعقوب کی عمر 85 سال کے لگ بھگ ہے اور بظاہر یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اگر حاجی یعقوب کو کچھ ہوتا ہے تو تمام قرضہ از خود معاف ہو جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جس اراضی پر بلڈر 120 گز کے 200 سے زائد ون یونٹ بنگلوز تیار کر رہا ہے اس کے سروے کے دوران پاکستان ریلوے کے لینڈ ڈیپارٹمنٹ نے ان ون یونٹ بنگلوز کو کراچی سرکلر ریلوے کی اراضی میں شامل کیا ہے اور ان بنگلوز کی اندرونی دیواروں پر نشان لگائے گئے ہیں، جس کے مطابق انہیں مسمار کیا جانا ہے کیوں کہ یہ تمام بنگلوز سرکلر ریلوے ٹریک کے 50 فٹ اندر آ ر ہے ہیں، تاہم سپریم کورٹ کے حکم پر کراچی سرکلر ریلوے بحالی کے آپریشن میں پاکستا ن ریلوے یا دیگر انتظامیہ نے تاحال اس زمین کو واگزار کرانے کے لیے کوشش نہیں کی ۔ ذرائع نے بتایا کہ احمد ریزیڈنسی کے بلڈر نے ابتدا ہی سے ایف آئی اے حکام پر زور دے رکھا ہے کہ اس اراضی پر قرضہ حاصل کرنے والے حاجی یعقوب کے خلاف ان کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا جائے تاکہ ون یونٹ بنگلوز کو قانونی تحفظ حاصل ہونے میں مدد ملے کہ زمین کی ملکیت کا دعوے دار یہ ہی بلڈر قرار پائے اور اس سے ان کے بنگلوز کا مسمار ہونا بھی رک جائے ۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More