Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

پی ٹی آئی حکومت کے 3 سو دن ،عوام پر12 سو ارب کا اضافی بوجھ ڈالا گیا

اسلام آباد( وقائع نگار خصوصی) تحریک انصاف حکومت کے ابتدائی تین سو روز مکمل ہوگئے عوام پر بارہ سو ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ ڈالا گیا ۔ چار سو ارب سے زائد کے ترقیاتی منصوبے ختم کردئیے گئے ، ترقیاتی بجٹ پر ایک سوپچیس ارب روپے کا کٹ لگایا گیا ۔ مہنگائی ، ملکی وغیر ملکی قرضے بجٹ خسارہ ،شرح سود ميں اضافہ ہوا جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر گر گئی ،بجلی اور گیس کے نرخ بڑھائے گئے ، ایف بی آر کا ٹیکس شارٹ فال ریکارڈ 450 ارب روپے ہو گیا ۔ پاکستان تحریک انصاف کے ابتدائی تین س روز ملکی معیشت پر اعتبار سے بھاری رہے ۔ عمران خان نے 18 اگست2018 کو وزیراعظم پاکستان کے طور پر عہدہ سنبھالا حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد ملکی معیشت کی بہتری کے لیے اقدامات کا اعلان کیا تاہم حکومت کو معیشت کے میدان میں مشکلات کا سامنا رہا ۔ پی ٹی آئی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلے مہینہ میں ہی منی بجٹ پیش کیا جس کے ذریعے عوام پر اضافی ایک سو 78 ارب روپے کا بوجھ ڈالا گیا جبکہ سالانہ بجٹ 2019-20 مین عوام پر آٹھ سو ارب روپے کے اضافی ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا گیا ، حکومت نے برآمدات کو بڑھانے ، تجارتی خسارہ ،درآمدات کو کم اور سرمایہ کاری میں سہولیات فراہم کرنے کے لیے جنوری 2019 ء یں دوسر امنی بجٹ پیش کیا ۔ پی ٹی آئی حکومت نے گھریلو صارفین کے لیے بجی کے نرخ دو روپے ستر پیسے اور کمرشل صارفین کے لیے تین روپے ساٹھ پیسے فی یونٹ تک بڑھائے جس سے عوام کو اضافی دو سو ارب روپے کا بوجھ برداشت کرناپڑے گا ، موجودہ دور حکومت میں مہنگائی پانچ سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ۔ اگت 2018 ء میں مہنگائی کی شرح پانچ اعشاریہ آٹھ چار فیصد تھی جو اب بڑھ کر نواعشاریہ ایک فیصد ہو گئی ۔ اسی عرصہ کے دوران گیس کے نرخوں میں ایک سو 43 فیصد تک اضافہ کیا گیا گیس کے نرخ بڑھا کر صارفین پر اضافی چورانوے ارب کا بوجھ ڈالا گیا ۔ پی ٹی آئی حکومت کے پہلے تین سو روز میں ایک ڈالر 34 روپے بڑھ گیا ۔ موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو اس وقت ایک ڈالر 123 روپے کا تھا جو اب بڑھ کر 157 روپے تک پہنچ چکا ہے ۔ حکومت کے ابتدائی تین سو روز مین زرمبادلہ کے ذخالر مین ایک ارب چوراسی کروڑ ڈآلر کی کمی ہوئی ۔ زر مبادلہ کے ذخائر سولہ ارب 72 کروڑ 2 8 لاکھ ڈالر تھے جو اب کم ہو کر 14 ارب اٹھاسی کروڑ ننانوے لاکھ ڈآلر رہ گئے ۔ رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ جولائی تا مارچ کے دوران ملکی وغیر ملکی قرضوں کے بوجھ میں پانچ ہزار دو سو پندرہ ارب روپے کا اضافہ ہوا جس میں غیر ملکی قرضے دو ہزار پانچ سوپچیس ارب روپے اور ملکی قرضی ایک ہزار سات سو چون ارب روپے بڑھ گئے اسی طرح رواں مالی سال کی پہلے گیارہ میں مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری مین چھیانو ے فیصد اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری مین پچاس فیصد کمی ہو گئی ۔
۔ رواں مالی سال کے پہلے گیارہ کے دوران ایف بی آر کو 450 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا سامنا رہا ۔ رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران بجٹ خسارہ پانچ فیصد یا 1992 ارب روپے رہا۔ رواں مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ میں کرنٹ اکائونٹ خسارے می پانچ ارب چوبیس کروڑڈالر کمی ہوئی ۔ گیارہ ماہ میں کرنٹ اکائونٹ خسارہ بارہ ارب اڑسٹھ کروڑ ڈآلر رہا جو گزشتہ مالی سال اسی عرصے میں سترہ ارب بانوے کروڑ ڈالر تھا۔ رواں مالی سال کے گیارہ ماہ جولائی تا مئی میں تجارتی خسارے میں چار ارب ساٹھ کروڑ ڈالر اور درآمدات میں چار ارب چھیاسٹھ کروڑڈالر کمی ہوئی جبکہ برآمدات میں اعشاریہ صفر فیصد کمی ہوگئی ۔ پی ٹی آئی حکومت کے ابتدائی تین سو روز میں شرح سود ساڑھے سات فیصد سے بڑھا کر سوا بارہ فیصد کردی گئی۔ پٹرولیم مصنوعات 17.44 روپے فی لٹر تک مہنگئی کی گئیں۔پٹرول سترہ روپے چوالیس پیسے ، ہائی سپیڈ ڈیزل تیرہ روپے اٹھاسی پیسے ، مٹی کا تیل چودہ روپے پانچ پیسے ، اورلائٹ ڈیزل تیرہ روپے پچیس پیسے فی لٹر مہنگا کیا گیا ۔ تہریک انصاف کی حکومت نے بااثر سیکٹرز کے لیے 215 ارب روپے کی ایمنسٹی سکیم متعارف کرنے کا بھی فیصلہ کیا جس کے تت سیس کی مد میں مختلف سیکٹر پر 416 ارب روپے کے بقایا جات کے تحت پچاس فیصد ادائیگی پر باقی ماندہ پچاس فیصد معاف کردئیے جائیں گے۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے زر مبادلہ اور برآمدات میں کمی کو مد نظر رکھتے ہوئے قرض کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ چھ ارب ڈالر کا معاہدہ کرلیا جس کی منظوری آئی ایم ایف بورڈ کی جانب سے تین جولائی کو متوقع ہے ۔ اسی طرح سعودی عرب ، چین اور متحدہ عرب امارات نے پاکستان کو نو ارب ڈالر فراہم کیے ، سعودی ولی عہد محمد سلمان نے پاکستان کا دو روزہ دورہ کیا جس مین آئندہ پانچ سال کے دوران اکیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی سات مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے غیر ضروری اخراجات کم کرنے کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات کا اعلان کیا جس کے تحت تمام وزارتوں اور ڈویژنز کے اخراجات مین دس فیصد بچت کا فیصلہ کیا گیا۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More