Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

مریم نواز نے چچا کی سیاسی پالیسیوں سے بغاوت کردی؟

لاہور( تجزیہ اجمل جامی ) ہفتے کی سہ پہر تین بجے مسلم لیگ سیکرٹریٹ ماڈل ٹائون مین مریم نواز کے ہمراہ پرویز رشید اور عظمی بخاری سٹیج پر براجمان تھے۔ یہ وہ مقام تھا جہاں کسی زمانے میںسرکاری ، نیم سرکاری سیاسی اور غیر سیاسی افراد کا ہجوم ہوا کرتا تھا ۔ پریس کانفرنس سے پہلے گمان تھا کہ وہ اپنے والد میاں نواز شریف کی صحت کے حوالے سے ہی بریفنگ دیں گی اور شاید سیاسی پیچیدگیوں میں الجھنے سے گریز کریں گی لیکن ایسا نہ ہوا ان کی پریس کانفرنس واضح طورپر تین اہم موضوعات پر مبنی تھی تینوں موضوعات پر وہ ت سے آئی تھیں ۔ پرویز رشید کی موجودگی مین بھی اس بات کی غماز تھی ۔ والد کی صحت ، چچا شہباز شریف کی سیاسی پالیسیوں سے انحراف اور پھر حکومت کو آڑے ہاتھوں لینا مریم کی پریس کانفرنس کے تین بنیادی موضوعات ثابت ہوئے ۔ میرے سب سے اہم نکتہ میثاق معیشت کو مذاق معیشت قرار دیا جانا تھا کیونکہ ابھی چند روز پہلے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف ایک طویل تقریر کے دوران سرکار کو میثاق معیشت پر مل بیٹھنے کے لیے مثبت تجاویز سے نواز رہے تھے اورادھر ہفتے کی سہ پہر ماڈل ٹائون بیٹھی مریم نواز اسے مذاق معیشت قرار دے کر چچا کی سیاسی پالیسیوں سے بغاوت کا اعلان کررہی تھیں ۔ میرے سوال پر کہ اس معاملے پر جیل میں قید نواز شریف کس سائیڈ پر کھڑے ہیں ؟ یعنی کیا وہ میثاق معیشت کے حامی ہیںیا وہ بھی اسے آپ کی طرح مذاق معیشت قرار دیتے ہیں؟ مریم نواز کا فی الفور دبنگ لہجے میں جواب تھا ، جی ہاں ، میاں نواز شریف میثاق معیشت کے ہرگز حامی نہین ہیں۔ گویا شیخ رشید کا تبصرہ صائب تھا ۔ شیخ صاحب نے کہا تھا شہباز لیگ اور ن لیگ الگ الگ جماعتیں ہیں ، تو پھر کیا یہ مان لیا جائے کہ غیر رسمی طور پر ہفتے کی سہ پہر مریم نواز نے ایک نئی مسلم لیگ کی بنیاد رکھدی ؟ کیونکہ ووٹ شہباز شریف کی سیاست کو نہین ،جیل میں قید نواز شریف کو ملا تھا، لیگی سپورٹرشہباز شریف کی سیاست نہين نواز شریف کے نام کی مالا جپتا ہے۔ نواز شریف کی سیاست کی وارث فی الحال مریم نواز ہی ہیں۔ جب گھر میں ہی سیاست دو آراء کی شکار ہو تو ووٹ بینک کویکجا کرنا خاصا مشکل ہو جاتا ہے اس کے لیی ضروری ہے کہ بیانیہ ایک ہو اور مکمل یکسوئی ہو یا پھر اپنے اپنے کلائو ڈکو بروقت سنبھال لیا جائے ظاہر ہے اس کی قیمت بھی ادا کرنی ہو گی ۔ یہ مریم نواز کو طے کرنا ہے کہ نہوں نے اب کس وقت اور کس موقع پر ’’ ٹیک آف ‘‘ کرنا ہے کیونکہ محض جمہوریت اور اختلاف رائے جیے روایتی الفاظ کے ذریعے چچا بھتیجی کے نظریات کی یہ خلیج اب سمٹنے سے رہی ۔ اس تفریق میں اب اس وقت کے ساتھ بڑھوتری تو ہو سکتی ہے البتہ کمی ہونا شاید معروضی حالات کے منافی ہو ۔ رہی بات میاں نواز شریف کی صحت کی تو اس بات بھی مریم اپنے سپورٹرز سے ہی رجوع کررہی۔ انہوں نے معاملہ عوام کے سامنے رکھتے ہوئے نواز شریف کی صحت کو لاحق خطرات کی ذمہ داری متعلقہ حلقوں پر عائد کردی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مریم نواز نے پمز ہسپتال کی جو ڈسچارج سپ پر پریس کانفرنس میں پڑھ کر سنائی اور میاں نواز شریف کی صحت کی موجودہ صورتحال کے بارے مین جس طرح منظر کشی کی وہ اسلام ہائی کورٹ میں ضمانت کی استدعا کے لیے خواجہ حارث کیوں نہ کر سکے۔ مریم نواز کے ماطبق ن کے والد کو اڈیالہ جیل میں ہارٹ اٹیک ہوا جس کا ثبوت پمز ہسپتال کی ڈسچارج سپل ہے اور انہین اور ان کے معالج کو اس بابت دانستہ طورپر بے خبر رکھا گیا یہاں اس معالے میں بھی ہمیں اپوزیشن لیڈر اور صدر ن لیگ شہبازشریف کا بیانیہ نر خوسا معلوم ہوتا ہے نواز شریف کی صحت کو لاحق خطرات پر تو چچااور بھتیجی ایک ٹیبل پر بیٹھ سکتے تھے۔ شہباز شریف خود دور رہے یا مریم نواز نے انہیں ساتھ لانے کی کوشش نہ کی ؟ یہ سوال بھی لیگی سیاست کا منہ چڑاتا رہے گا۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More