Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

اپوزیشن کا اجلاس 54 سینیٹرز کی شرکت ,سنجرانی سے استعفیٰ کا مطالبہ

کہ سینیٹ کا اجلاس جلد بلا کر تحریک عدم اعتماد پرعملدرآمد کرایا جائے ،9 جماعتوں پرمشتمل اپوزیشن اتحاد نے کہا ہے کہ 103 کے ہائوس میں 54 سینیٹرز نے چیئرمین صادق سنجرانی پر عدم اعتماد کیا لہذا اخلاقی طور پر انہیں اپنے آپ کو عہدے سے الگ کرتے ہوئے مستعفی ہوجانا چاہیے ، اپوزیشن نے یہ بھی کہا کہ حکومت گرانے کی ابتدا ہوگئی ،چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی کے عمل کے بعد حکومت مخالف تحریک چلائی جائے گی جو حکومت کے خاتمہ تک جاری رہے گی۔ بتایا گیا ہے کہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ظفرالحق کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں9 جماعتوں کے 54 ارکان سینیٹ نے شرکت کی، مسلم لیگ ن کے 31 میں سے اسحاق ڈار سمیت 4سینیٹرز نے شرکت نہیں کی جبکہ 27لیگی ارکان سینیٹ میں موجود تھے ۔پیپلزپارٹی کے فاروق ایچ نائیک سمیت 4ارکان اجلاس میں شریک نہیں ہوئے ،مسلم لیگ ن کے لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم ملک، چودھری تنویر اپنے اہلخانہ سمیت بیرون ملک دورے پر ہیں جبکہ رانا محمود الحسن کی دادی کا انتقال ہوا ہے وہ تدفین کیلئے ملتان میں موجود تھے ۔راجہ ظفرالحق نے اجلاس کو بتایا کہ 3سینیٹرز نے باقاعدہ طور پر اطلاع دی اور تحریک عدم اعتماد کے دوران ایوان میں حاضر رہنے کی یقین دہانی کرائی ، اجلاس میں راجہ ظفرالحق، میرحاصل خان بزنجو،سلیم مانڈی والا، شیری رحمن ، مشاہد اللہ خان، مولانا غفورحیدری، جاوید عباسی، مولا بخش چانڈیو، رخسانہ زبیری، نجمہ حمید، سکندر مندرو، بہرمندتنگی، روبینہ خالد، کلثوم پروین، عابدہ بیگم، کلثوم پروین، گل بشری ٰ، خان زادہ خان ، مشاہد حسین سید، رضا ربانی، مولوی فیض، پیر صابرشاہ، راحیلہ مگسی، پرویز رشید، شاہ زیب درانی ، سسی پلیجو، کیش بھائیو، ڈاکٹر اشوک کمار، اسلام الدین شیخ، امام الدین شوقین، رحمان ملک، پروفیسر ساجد میر، عثمان کاکڑ، شمیم آفریدی، صلاح الدین ترمذی، اسد جونیجو، ڈاکٹر آصف کرمانی، رانا مقبول، شاہین خالد بٹ، عائشہ فاروق رضا، نزہت صادق، مصدق ملک، محمد اکرم، سلیم ضیا ،دلاور خان، ڈاکٹرغوث نیازی، ڈاکٹر اسد اشرف، حاجی کبیر احمد، گیان چند، انور لال دین، طاہر بزنجو، سردار شفیق ترین ستارہ ایاز، مولانا عطاء الرحمان، طلحہ محمود نے شرکت کی۔ اجلاس میں ن لیگ ’ پی پی ’ جے یو آئی ’ اے این پی’ نیشنل پارٹی’ پشتون خوا ملی عوامی پارٹی اور دیگر کی نمائندگی موجود تھی۔ اپوزیشن لیڈر راجہ ظفرالحق نے تمام جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ کو اسلام آباد میں موجود رہنے کی ہدایت کی ہے اور 22جولائی کو دوبارہ اپوزیشن جماعتوں کے سینیٹرز کا اجلاس پارلیمنٹ میں ہوگا، رپورٹ کیمطابق ایوان بالا اس وقت 103 ارکان پرمشتمل ہے ، اسحاق ڈار نے حلف نہیں اٹھایا جبکہ کامران مائیکل نیب حراست میں ہیں۔ اپوزیشن کو اپنا چیئرمین بنوانے کے لئے 53 ارکان کی حمایت کی ضرورت ہے ، گزشتہ روزاجلاس میں 54 سینیٹرز موجود تھے جبکہ پی پی ، ن لیگ اور دیگر جماعتوں کو 22 جولائی کے روز اجلاس کے لئے بیرون ملک سے واپس بلالیا گیا ۔ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے راجہ ظفرالحق ، شیری رحمان، مشاہد اللہ خان، غفور حیدری، عثمان کاکڑ، ستارہ ایاز نے کہا کہ اپوزیشن نے اکثریت ثابت کر دی ، اپوزیشن کے امیدوار میرحاصل بزنجو پر 54 ارکان نے اعتماد کا اظہار کیا ، ہمیں ڈر ہے کہ حکومت اب اوچھے ہتھکنڈے کرتے ہوئے اجلاس بلانے میں دیر کرے گی۔ اپوزیشن ارکان کو ڈرایادھمکایا جارہا ہے ، ان کیخلاف ثبوت اکٹھے کئے جارہے ہیں، اپوزیشن خوفزدہ نہیں ہوگی، اپوزیشن متحد ہے ، حکومت جس دن اجلاس بلائے گی اکثریت ثابت کر کے صادق سنجرانی کو عہدہ سے ہٹا دیں گے ، حکومت راہ فرار اختیار کرنے کے بجائے فوری اجلاس بلائے ،جس کیلئے اپوزیشن نے ریکوزیشن دے رکھی ہے ، ن لیگی سینیٹر کلثوم پروین جو اجلاس میں شریک تھیں اور تحریک عدم اعتماد پر دستخط کئے ہوئے ہیں انہوں نے اجلاس سے اٹھتے ہی میڈیا سے کہا کہ میں اجلاس میں شریک ضرور تھی لیکن میں ان کے ساتھ نہیں ہوں، انہوں نے پہلے بھی پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے راجہ ظفرالحق کے بجائے صادق سنجرانی کو ووٹ دیا تھا۔پیر کے روزدوبارہ ارکان سینیٹرز کا اجلاس بلایا گیا ہے اپوزیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ 22جولائی کو 60سے زائد سینیٹرز شریک ہوں گے ، اجلاس میں 25 جولائی کو یوم سیاہ بھرپور انداز میں منانے کا فیصلہ کیاگیا جبکہ احتجاجی پروگرام کو پیر کے روز اجلاس میں حتمی شکل دی جائے گی جماعت اسلامی کے سینیٹرسراج الحق ، محمد مشتاق سمیت اپوزیشن عبدالقیوم ملک، سردار یعقوب خان ناصر، رانا محمود الحسن، چودھری تنویر، کامران مائیکل، فاروق نائیک ، مصطفی کھوکھر، پی پی کے علی شاہ جاموٹ پی پی کی قراۃ العین مزاری، پی پی کے محمد یوسف بادینی شریک نہیں ہوئے ۔ کامران مائیکل نیب حراست میں ہیں جبکہ اسحاق ڈارنے ابھی تک حلف نہیں اٹھایا۔ادھر بلاول بھٹو نے پی پی سینیٹرز کو بیرون ملک جانے سے روک دیا۔تحریک عدام اعتماد کا فیصلہ ہونے تک بیرون ملک نہ جائیں ۔اسلام آباد سے باہر جانے والے سینیٹرز بھی بتا کر جائیں ۔

ش

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More