Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا اپنے دفاع کیلئے حامد خان اور منیر اے ملک سے رابطہ

اسلام آباد(سہیل خان)جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےقانونی ٹیم بنانے کیلیے مشاورت شروع کردی ہے۔سینئر وکیل حامد خان کا کہنا ہے کہ اچھالگے گاکہ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی قانونی ٹیم کا حصہ بنوں‘انہوں نے منیر اے ملک کوبھی ٹیم کا حصہ بنانےکیلئے رابطہ کیاتھا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے ارکان کیخلاف شکایتیں زیر التواءہیں، جس کی وجہ سے نیا بینچ تشکیل دینے کی درخواست بھی کی جاسکتی ہے۔تفصیلات کے مطابق،سپریم کورٹ کے سینئر جج ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جنہیں مبینہ طور پر بیرون ملک جائداد ہونے کے سبب صدارتی ریفرنس کا سامنا ہے ۔انہوں نے قانونی ٹیم کے پینل کی تشکیل کے لیے سوچ بچار شروع کردیا ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے قریبی ذرائع نے دی نیوز کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دو سینئر وکلا منیر اے ملک اور حامد خان سے رابطہ کیا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے دفاع کے حوالے سے مذکورہ دو وکیلوں سے مشاورت کی ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بھجوائے گئے حالیہ شوکاز نوٹس میں ان سےصدر پاکستان کو لکھے گئے خطوط سے متعلق 14روز کے اندر اپنی پوزیشن واضح کرنے کا کہا گیا ہے۔یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ 23جون کو لاہور کے ایک وکیل وحید شہزاد بٹ نے سپریم جوڈیشل کونسل میں ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ
کے خلاف درخواست دی تھی کہ انہوں نے صدر پاکستان کو خط لکھ کر میڈیا کے ساتھ اس کا اشتراک کرکے عدلیہ ارکان کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے۔اس لیے ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209کے تحت کارروائی کی جانی چاہیئے۔دریں اثناءجب سینئر وکیل حامد خان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مجھ سے مشاورت کے لیے رابطہ کیا تھا اور مجھے اچھا لگے گا میں ان کی قانونی ٹیم کاحصہ بنوں ۔حامد خان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ہرممکن قانونی معاونت فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی۔ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سابق اٹارنی جنرل منیر اے ملک سے بھی رابطہ کیا تھاتو حامد خان کا کہنا تھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ منیر اے ملک سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ منیر اے ملک آئندہ ہفتے پاکستا ن واپس ائیں گےکیوں کہ وہ اس وقت کیلی فورنیا میں ہیں جہاں ان کے بھائی کا علاج ہورہا ہے۔دی نیوز نے منیر اے ملک سے رابطے کی متعدد کوششیں کیں تاہم ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔دریں اثنا قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صدارتی ریفرنس میں اپنے دفاع کا حق رکھتے ہیں ۔قانونی ماہرین کے مطابق، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ آئین کے آرٹیکل 184(3)کے تحت صدارتی ریفرنس کو چیلنج کرکے کہہ سکتے ہیں کہ یہ ان کے خلاف بدنیتی کی بنیاد پر دائر کیا گیا ہے۔قانونی حلقوں نے سابق چیف جسٹس ، جسٹس افتخار چوہدری کے 2007کے کیس کا حوالہ دیا جو کہ صدر پرویز مشرف کے خلاف تھا ۔جس میں اپیکس کورٹ کے 13رکنی لارجر بینچ ، جس کی سربراہی خلیل الرحمان رمدے کررہے تھے ۔جنہوں نے صدارتی ریفرنس کو بدنیتی کی بنیاد پر مسترد کردیا تھا۔سینئر وکیل شیخ احسن الدین نے دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف نے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر کیا تھا، جسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا اور بعد ازاں لارجر بینچ نے ریفرنس مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریفرنس بدنیتی پر مبنی تھا۔سینئر وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ وہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو تجویز دیں گے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 184(3)کے تحت صدارتی ریفرنس کو چیلنج کریں ۔یہی رائے پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین سید امجد شاہ کی بھی تھی۔دریں اثنا ءان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپریم جوڈیشل کونسل کے ارکان کو بھی چیلنج کرسکتے ہیں کیوں کہ ان میں سے تین ججوں کے خلاف شکایتیں زیر التواء ہیں ۔سپریم جوڈیشل کونسل کا پانچ رکنی بینچ جن ارکان پر مبنی ہے ان میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس گلزار احمد، جسٹس شیخ عظمت سعید، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ احمد علی ایم شیخ اور پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ شامل ہیں۔یکم جولائی کو ایڈوکیٹ انعام الرحیم نے سپریم کورٹ میں سپریم جوڈیشل کونسل کو چیلنج کیا اور استدعا کی کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی ازسرنو تشکیل کی جائے کیوں کہ اس کے دوارکان جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس احمد علی شیخ کے خلاف ریفرنسز زیر التوا ء ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 2012میں انہوں نے جسٹس شیخ عظمت سعید کے خلاف سنگین بے قاعدگی اور اپنے حلف کی خلاف ورزی پر دو ریفرنسز دائر کیے تھے ۔جب کہ 10اکتوبر،2018کو جسٹس احمد علی شیخ کے خلاف بھی سی پی ایل اے دائر کی تھی ، جس میں فوجداری مقدمے سے متعلق معلومات طلب کی گئی تھی جو کہ 1982میں جسٹس احمد علی شیخ کے خلاف درج کیا گیا تھا ، جس کی وجہ سے وہ 10ماہ تک جیل میں رہے تھے۔درخواست گزار نے سوال اٹھایا تھا کہ یہ ایک قانونی سوال ہے کہ کیا سپریم جوڈیشل کونسل کے ارکان ، جن کے خلاف ریفرنسز زیر التواء ہوں کیا وہ اپنے ساتھی کے خلاف مقدمے کا فیصلہ کرسکتے ہیں اور سپریم جوڈیشل کونسل میں ایسے مقدمے کی قانونی حیثیت کیا ہوگی

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More