Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

سرکاری شعبے میں نہ چل سکنے والے ادارے نجی سیکٹر کو دینے کا فیصلہ کر لیا ہے: مشیر خزانہ

ملک کا امیر طبقہ ٹیکسز دینے میں بہت کمزور ہے لیکن ٹیکسوں کے معاملے پر کسی سے بھی سودے بازی نہیں ہوگی،مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی پریس کانفرنس

اسلام آباد میں مشیر خزانہ حفیظ شیخ، چیئرمین ایف بی آر و دیگر نے نیوز کانفرنس کی، مشیر خزانہ نے کہا کہ حکومت سے وابستہ عوام کی امیدوں کو پورا کرنے جا رہے ہیں، 30 کمپنیوں میں ری اسٹرکچرنگ کریں گے، 10 نئی کمپنیوں کی پرائیوٹائزیشن کے لیے اشتہار دے دیے ہیں۔

حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ آیندہ سے ہر ماہ 16 تاریخ کو ٹیکس ری فنڈ ہو جایا کرے گا، حکومت پر ٹیکس ری فنڈ کا کوئی بوجھ باقی نہیں رہا، سب ادائیگیاں کر دی گئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہم سخت انداز میں اخراجات میں کمی لائے ہیں، ایکسچینج ریٹ بہتر ہوا، جون جولائی میں روپے کی قدر بڑھی، نان ٹیکس آمدنی کے تحت 2 سیلولر کمپنیوں سے 70 ارب وصول ہوئے، ایک اور سیلولر کمپنی سے 70 ارب روپے اضافی ملنے کی امید ہے۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ آر ایل این جی پلانٹس کی نج کاری اس سال ہو جائے گی، حکومت نے اخراجات پر کنٹرول کے لیے اسٹیٹ بینک سے ادھار نہیں لیا، ہر ماہ سرکلر ڈیٹ میں 38 ارب اضافہ ہو رہا ہے، ایک سال میں بجلی چوری کی روک تھام سے 100 ارب کی بچت ہوئی۔

حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ گزشتہ 2 ہفتے سے اسٹاک مارکیٹ اور ایکسچینج ریٹ میں استحکام ہے، اے ڈی بی اور ورلڈ بینک سے قرضوں پر بات ہو رہی ہے، ملک میں معاشی نقل و حرکت میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے، ٹیکس آمدن میں نمایاں اضافے سے معیشت پر مثبت اثرات پڑے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے گردشی قرضوں میں کمی لا رہے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ستمبر میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک پہنچایا، مہنگائی کنٹرول کرنا چیلنج ہے، حکومت کی کوشش ہے مہنگائی کنٹرول کرے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More