Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

لو پرین کھا نے کی وجہ سے نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کم ہو نے کی بات مضحکہ خیز ہے،حسین نواز

والد کو گھر کا نارمل کھانا جاتا ہے پہلی دفعہ سن رہا ہوں کہ نہاری کھارہے ہیں،نواز شریف کے صاحبزادے کی گفتگو

اسلام آباد (ویب ڈیسک) نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نے کہا ہےکہ نواز شریف سے پہلے میری والدہ کلثوم نواز کی صحت پر بھی ایسی سیاست کی گئی تھی،

نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نے کہا کہجیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  نواز شریف کی بیماری سے متعلق کیا کچھ نہیں کہا گیا ہے، منگل کو بھی ایک دو بیانات آئے کہ نواز شریف ہشاش بشاش اسپتال جارہے تھے، نواز شریف کی صحت سے متعلق تمام حقائق سامنے آچکے ہیں، جب سیلف ریسپیکٹ رکھنے والے مریض کے ساتھ خراب سلوک کیا جائے تو وہ پھر اسپتال جانے سے انکار ہی کرتا ہے، نواز شریف نے بھی اسی وجہ سے اسپتال جانے سے انکار کیا تھا، شہباز شریف نے نواز شریف کو اسپتال جانے کیلئے آمادہ کیا پھر انہیں اسپتال لے کر گئے۔

حسین نواز کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو گھر کا نارمل کھانا جاتا ہے پہلی دفعہ سن رہا ہوں کہ نہاری کھارہے ہیں، مجھے بتائیں کس دن اور کہاں سے نواز شریف کو جیل میں نہاری اور ہریسہ جیسے کھانے گئے ،یہ بات انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ لوپیرین گولی کی وجہ سے نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کم ہوئے، یہ ان نام نہاد ڈاکٹر وں کی ذہنی اختراع ہے جو ڈاکٹری چھوڑ کر سیاست میں آئے ہوئے ہیں، حکومت کی حیثیت نیب کے ترجمان کی رہ گئی ہے اس کی بات کا کیا جواب دیں۔

حسین نواز نے کہا کہ نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کم ہونے کی وجہ ابھی تک پتا نہیں لگ سکی ہے، نواز شریف کے ڈینگی اور انفیکشن کے ٹیسٹ نیگیٹو آئے ہیں، میں نے الزام نہیں لگایاخدشہ کا اظہار کیا ہے، ایک ریسرچ میں کہا گیا ہے کہ پلیٹ لیٹس گرنے کی ایک وجہ زہر کھانا بھی ہوسکتی ہے، پاکستان کی تاریخ دیکھیں تو کیا ہمیں خدشات کا اظہار نہیں کرنا چاہئے، قائداعظم، مادر ملت، لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کے ساتھ یہاں کیا ہوا

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More