Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

حکومت چا ہے تو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع بارے قانون سازی مارچ سے پہلے بھی ہو سکتی ہے، رانا تنویر حسین

پاکستان مسلم لیگ (ن)کے نائب صدر اور چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ بجائے یہ کہ حکومت آرمی چیف کی توسیع کے سلسلہ میں کوئی اچھا سا ڈرافٹ بنا کر لائے اور اپوزیشن کے ساتھ بیٹھ کر مشاورت کر کے اگر اس میں بہتری

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ (ن)کے نائب صدر اور چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ بجائے یہ کہ حکومت آرمی چیف کی توسیع کے سلسلہ میں کوئی اچھا سا ڈرافٹ بنا کر لائے اور اپوزیشن کے ساتھ بیٹھ کر مشاورت کر کے اگر اس میں بہتری کرنے کی بات ہے یا کوئی اور چیز ہے تو وہ کریں ،یہ الٹا دھمکیاں دے رہے ہیں۔ایسی باتیں کرکے حکومت چاہتی ہے کہ اس معاملہ پر اور کنٹروورسی پیدا ہو۔ ووٹ کو عزت دینے کا مطلب ہے کہ قانون کی حکمرانی ہو، صاف اور شفاف انتخابات ہوں اور اگر دھاندلی کریں گے تو پھر ووٹ کی تو کوئی عزت نہ ہوئی، ووٹر کاحق ہے وہ جس کو منتخب کرنا چاہتا ہے کرے۔ اگر حکومت چاہتی ہے تو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالہ سے قانون سازی مارچ، اپریل سے پہلے بھی ہو سکتی ہے اور اگر نئے انتخابات ہوتے ہیں تو یہ کام اگلی حکومت آکر کر لے گی۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ صاف ،شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کروائے جائیں اور ایسا الیکشن ہو جس میں عوام جس کو ووٹ دیں اور منتخب کریں وہ آکر حکومت بنائے۔ ہمارے خیال میں 2018کا الیکشن دھاندی زدہ ترین الیکشن تھا اور حکومت کو آئے 16ماہ ہو گئے ہیں اور یہ کہتے ہیں ہم بہت مقبول ہیں تو پھر آئیں نیا صاف، شفاف الیکشن کروا ئیں اور اگر پہلے سے بھی زیادہ ووٹوں سے جیت جاتے ہیں تو پھر آکر حکومت بنالیں، ہمیں کیا ہے ہم آمین کہیں گے کہ آپ کا حق ہے۔ ان خیالات کا اظہار رانا تنویر حسین نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سالوں میں چوہدری نثار علی خان، سید خورشید احمد شاہ اور اور ندیم افضل چن کے دور میں پی اے سی میںبڑا اچھا کام ہوا ہے۔ جبکہ میاں محمد شہباز شریف جتنا عرصہ رہے انہوں نے بڑا اچھا کام کیا اور ایک نئی سمت دی ہے۔ پارٹی معاملات میں مصروفیت کی وجہ سے شہباز شریف پی اے سی کو وقت نہیں دے پارہے تھے اس لئے مشترکہ اپوزیشن نے فیصلہ کیا اور مجھے نامزد کیا گیا ۔ میں پی اے سی کو وقت دوں گا اور میری کوشش ہو گی کہ پی اے سی کو زیادہ مئوثر بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہپی اے سی میں بہت زیادہ بیک لاگ ہے اور کچھ ایسے بھی آڈ ٹپیراز ہیں جو 20،20سال پرانے ہیں، لوگ مر گئے ہیں ، لوگ چلے گئے ہیں اور ان کا اتا پتہ نہیں مل اور میں سمجھتا ہوں کہ ہم کوشش کر کے جتنی جلدی ہو سکے بیک لاگ ختم کریں اور ہمیں چاہیئے کہ گزشتہ دو تین سال اور مووجودہ دور کا احتساب کریں ۔ رانا تنویر حسین کا کہنا تھا کہ میری دعا ہے کہ حکومت اس بات کو سمجھ جائے کہ اپوزیشن کا پارلیمانی جمہوریت میں اہم کردار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے سینئرلوگوں اور وزیر اعظم نے خود اس بات کی منظوری دی کہ پی اے سی کی سربراہی اپوزیشن کو جانی چاہیئے۔ رانا تنویر حسین کا کہنا تھا کہ میں نے کبھی بھی مطالبہ نہیں کیا کہ مجھے پی ا ے سی کا چیئرمین بنایا جائے، یہ پارٹی نے فیصلہ کیا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا تو اپنا احتساب کا نعرہ ہے اور پی ٹی آئی کو اپنے دور کے حوالہ سے پی اے سی کی کاروائی پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیئے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو موجودہ حکومت کے کسی خاص منصوبے کے آڈٹ کا بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ جو منصوبہ ہے، اسکیم ہے یا یہ جو اخراجات ہیں اس کا آڈت کریں اور ہمیں 15روز یا 30روز میں رپور ٹ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ پی ٹی آئی کے 2018/19کے اگر کوئی آڈٹ پیراز تیار ہیں تو وہ پی اے سی میں لائے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی اے سی کا سکوپ بہت بڑا ہے جبکہ نیب کے پاس کوئی کیس آتا ہے تو وہ اس کی تحقیقات کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ پی اے سی کی تنظیم نو کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی توسیع کے معاملہ کو حکومت کو سنجیدہ لینا چاہیئے تھا، حکومت کی جانب سے جو کچھ ہو ا وہ ٹھیک نہیں ہوا، تاہم ایک چیز جو سامنے آئی ہے اس قانونی کمی کو ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعہ پورا کیا جائے گا جو کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم بھی ہو سکتی ہے اور نیا ایکٹ بھی بنایا جاسکتا ہے اور یہ آنے والے دنوں میں اس عہدے کے لئے بھی اچھا ہو گا کہ مستقبل میں کوئی ابہام، کنفیوژن یا سوال نہ ہو۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More