Pak Updates - پاک اپڈیٹس
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

جی ڈی پی کے اعداد و شمار ناقابل قبول ، بھارتی معیشت کی حالت ‘پریشان کن’: منموہن سنگھ

بھارت کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ ہندوستان کی معاشی حالت "گہری تشویشناک" ہے اور حکومت کی طرف سے جاری کردہ جی ڈی پی کے تازہ ترین اعداد و شمار واضح طور پر "ناقابل قبول"

سرینگر ،3دسمبر(نیوزڈیسک ): بھارت کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ ہندوستان کی معاشی حالت “گہری تشویشناک” ہے اور حکومت کی طرف سے جاری کردہ جی ڈی پی کے تازہ ترین اعداد و شمار واضح طور پر “ناقابل قبول” ہیں۔
سابق وزیر اعظم کے یہ ریمارکس قومی شماریاتی دفتر (این ایس او)کے جمعہ کو پیش کردہ اعدادوشمار کے فورا. بعد سامنے آئے ہیں کہ رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی (جولائی تا ستمبر)میں ہندوستان کی جی ڈی پی نمو 4.5 اعشاریہ چودہ فیصد کی سطح پر آگئی ہے۔
ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق من موہن سنگھ نے نئی دہلی میں قومی معیشت کانفرنس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج جاری کردہ جی ڈی پی کے اعدادوشمار کم سے کم 4.5 فیصد ہیں۔ یہ واضح طور پر ناقابل قبول ہے۔ جی ڈی پی کی تیزی سے پہلی سہ ماہی میں 5 فیصد سے کم ہوکر دوسری سہ ماہی میں 4.5 فیصد ہوگئی۔ خبر رساں ایجنسی ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق کانگریس رہنما کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اقتصادی پالیسیوں میں معمولی تبدیلیوں سے معیشت کو بحال کرنے میں مدد نہیں ملے گی۔
من موہن سنگھ نے یہ بھی کہا کہ معیشت کی حالت تشویشناک ہے لیکن ہمارے معاشرے کی حالت “اس سے بھی زیادہ تشویشناک” ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے معاشرے میں خوف کاایک واضح ماحول موجود ہے۔
“بہت سے صنعت کاروں نے مجھے بتایا کہ وہ سرکاری حکام کے ذریعہ ہراساں کیے جانے کے خوف میں رہتے ہیں۔ بدلہ لینے کے خوف سے بینکر نئے قرضے دینے سے گریزاں ہیں۔ سنگھ نے کہا ، کاروباری حضرات ناکامی کے خوف سے ، تازہ منصوبے شروع کرنے میں ہچکچاتے ہیں۔
سنگھ نے وزیر اعظم نریندر مودی پر بھی زور دیا کہ وہ ہمارے معاشرے پر اپنے گہرے شکوک وشبہات کو ترک کریں اور معیشت کی مدد کریں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More